Ticker

6/recent/ticker-posts

کامٹی میں رفاہی و سماجی انقلاب: صفاء بیت المال اور رہبر فاؤنڈیشن کا خود روزگار اور انسانی خدمت کا مشن

 کامٹی میں رفاہی و سماجی انقلاب: صفاء بیت المال اور رہبر فاؤنڈیشن کا خود روزگار اور انسانی خدمت کا مشن

تقریب کا پس منظر اور تاریخی و رفاہی اہمیت

مورخہ ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز اتوار، کامٹی (ناگپور) کے کلمنا روڈ پر واقع پیراڈائز لان میں ایک عظیم الشان اور تاریخ ساز 'ہاتھ ٹھیلہ تقسیم تقریب' کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ صفاء بیت المال ٹرسٹ (ناگپور-کامٹی) اور رہبر فاؤنڈیشن کے اشتراک و تعاون سے منعقدہ اس فلاحی پروگرام میں ۱۰۰ سے زائد غریب اور ضرورت مند خاندانوں کو خود روزگاری کے لیے تمام ضروری سامان اور آلات کے ساتھ ہاتھ ٹھیلے فراہم کیے گئے۔ یہ اقدام محض سامان کی تقسیم یا عارضی مالی اعانت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ خطِ غربت سے نیچے اور معاشی دشواریوں کا شکار افراد کو دائمی طور پر "معاشی خود کفالت" اور باوقار زندگی کی طرف گامزن کرنے کا ایک انقلابی اور مستحکم قدم ہے۔

اس وقار پرور تقریب کی صدارت انجمن فلاح المسلمین (ناگپور) کے صدر اور صفاء بیت المال کے سرپرست حافظ سید فراز عبدالجبار صاحب نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض حافظ مزمل  اطہر نے احسن طریقے سے انجام دیے۔ تقریب میں صفاء بیت المال کامٹی کے ذمہ دار مفتی فیاض احمد فلاحی صاحب (امام و خطیب، مسجد داروغا صاحب، کامٹی) کی مرکزی قیادت اور این جی پی نیوز (NGP News) کے نمائندے محمد ذیشان کے ساتھ ان کا تفصیلی انٹرویو الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا۔

اس تقریب کی اہمیت کو مزید جلا بخشنے کے لیے علاقے کی تمام اہم سماجی و مذہبی طبقات سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

  • دینی و مذہبی قیادت: مفتی ضیاء الرحمن قریشی صاحب (امام و خطیب، جامع مسجد، کامٹی) اور حافظ مہروز حسن صاحب (امام و خطیب، مرکز مسجد وارث پورہ، کامٹی)۔
  • بلدیاتی و سیاسی اراکین: سابق صدر نگر پریشد حاجی عبد الشکور ناگانی اور ایڈوکیٹ یوراج ہمنے۔
  • معززینِ شہر و سماجی شخصیات: عارف سرمتیا، ماسٹر انور جلیل، ڈاکٹر آصف، عقیل فیضی، نور انصاری، سہیل انجم، عابد احمد انصاری، اور امتیاز احمد۔
  • انتظامی و تحریکی اراکین: اس تاریخی تقریب کے نظم و ضبط اور کامیابی کو یقینی بنانے میں تنظیمی اراکین (زاہد انصاری، مفتی عمران قاسمی، مفتی شہزاد اختر ملی، مولانا عمران اختر ندوی، عمران بھائی بور گاؤں، انعام الحق، اور نوشاد عالم کے علاوہ متحرک کارکنان  عقیل احمد، جمیل احمد، ریحان کوثر، حاجی شمیم اختر، تبریز جنیدی، حافظ شہباز، واہب بلال انصاری، ابراہیم بھائی، شمیم بھائی اور محمد عابد نے کلیدی کردار ادا کیا۔

سماجی بہبود کے نقطہ نظر سے، جب خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ۱۰۰ خاندانوں کو روزی روٹی کا براہِ راست ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے، تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے پورا کنبہ معاشی بدحالی، قرض کے بوجھ اور دستِ سوال دراز کرنے کی مجبوری سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار محتاجی کے خاتمے اور مقامی سطح پر پائیدار روزگار کے قیام کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے، جو ظاہری تقاریب سے ہٹ کر تنظیم کے اصل فکر اور دور اندیش وژن کا پتہ دیتا ہے۔

 صفاء بیت المال کا وژن: نصوصِ نبویؐ اور بلا تفریقِ مذہب و ملت انسانی خدمت

صفاء بیت المال ٹرسٹ اور رہبر فاؤنڈیشن کی تمام تر سرگرمیوں کا بنیادی محور ایک ایسا نظریاتی وژن ہے جو انسان کو محتاجی اور "مانگنے والے" کے درجے سے نکال کر "دینے والا" اور خود کفیل بناتا ہے۔ تنظیم کے سرپرست حافظ سید فراز عبدالجبار صاحب اور مفتی فیاض احمد فلاحی صاحب کے تجزیاتی نقطہ نظر سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس رفاہی مشن کی روح سیرتِ طیبہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی مبارک تعلیمات میں پیوست ہے۔

اسلامی اور انسانی اخلاقیات کا اصل جوہر یہی ہے کہ جب کسی بھی مجبور یا بے روزگار انسان کی مدد کی جائے، تو اس وقت اس کے مذہب، ملت، یا برادری کے بجائے محض اس کی انسانی ضرورت کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے یہی سبق ملتا ہے کہ بلا تفریق مدد کرنے کے اس جذبے ہی سے معاشرے میں محبت، الفت اور باہمی خیر کا فروغ ممکن ہوا ہے۔

"ہمارے آقا جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ جب تم کسی کی مدد کرو تو اس کا مذہب یا دین مت دیکھو، بلکہ اس کی ضرورت کو دیکھو۔ اسی تعاون اور حسنِ سلوک کو دیکھ کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے ایمان قبول کیا۔" — مفتی فیاض احمد فلاحی صاحب

اس آفاقی نظریے کا عملی ثبوت پیراڈائز لان کی تقریب میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب ۱۰۰ ہاتھ ٹھیکوں کی تقسیم کے دوران مسلمان مستحقین کے ساتھ ساتھ تقریباً ۱۰ سے ۱۵ ہم وطن غیر مسلم بھائیوں (مثلاً وپِن گائیکواڑ اور دیگر) کو بھی مکمل سامان اور فروٹ وغیرہ کے ساتھ ٹھیلے فراہم کیے گئے، تاکہ وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

تجزیاً، بلا تفریقِ مذہب و ملت یہ غیر جانبدارانہ خدمتِ خلق معاشرتی ہم آہنگی، باہمی اعتماد، اور اتحاد کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ ماڈل یہ ثابت کرتا ہے کہ سماجی بہبود کی حقیقی طاقت انسانیت کی مشترکہ قدروں میں ہے، جو ذات پات سے بالاتر ہو کر معاشرے کے ہر کمزور طبقے کو سہارا دیتی ہے۔ یہی شفاف فکر و عمل مستحقین کے شفاف انتخاب اور تنظیمی طریقہ کار کی کامیابی کی ضامن ہے۔

 مستحقین کی دریافت، تصدیق اور شفافیت کا جامع طریقہ کار

سماجی بہبود اور مالی شفافیت کے اصولوں کے مطابق، رقم یا سامان خرچ کرنا نسبتاً آسان کام ہے، لیکن حقیقی اور سفید پوش مستحقین کو تلاش کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے۔ وہ لوگ جو انتہائی ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی غیرت و حمیت کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے، ان تک امداد پہنچانا ایک منظم اور شفاف نظام کا تقاضا کرتا ہے۔ صفاء بیت المال نے اس مقصد کے لیے ایک جامع اور کثیر السطحی طریقہ کار وضع کیا ہے:

  • مقامی سطح پر نشاندہی (Identification): کامٹی، ناگپور اور اطراف کے ہر علاقے کی مساجد کے آئمہ کرام، مؤذنین اور محلے کے بااعتماد و معززینِ علاقہ سے رابطہ قائم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے اطراف کے واقعی محتاج اور محنت کش افراد کی نشاندہی کریں۔
  • عوامی اعلانات اور درخواستوں کی وصولی: جب پروجیکٹ کا حتمی فیصلہ ہوتا ہے، تو مساجد میں اعلانات کروائے جاتے ہیں تاکہ مستحق، بیوہ، مطلقہ یا معذور افراد تک اطلاع پہنچ جائے۔
  • ابتدائی کاغذی کارروائی (Document Submission): تمام درخواست گزاروں کو اپنے آدھار کارڈ کے ساتھ صفاء بیت المال کے گوڈاؤن (واقع داروغا مسجد، وارث پورہ، کامٹی) میں بلایا جاتا ہے اور ان کا ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔
  • مرکزی جانچ اور گراؤنڈ سروے (Multi-tier Verification): حاصل شدہ تمام درخواستیں اور معلومات حیدرآباد کے مرکزی ذمہ داران کو بھیجی جاتی ہیں۔ وہاں کے ذمہ داران فون کے ذریعے یا خود ذاتی طور پر درخواست دہندگان کے گھروں تک جا کر "آن گراؤنڈ" دوبارہ تصدیق و سروے کرتے ہیں۔
  • حتمی مرحلہ اور ری ویریفیکیشن (Re-verification): سروے میں مستحق پائے جانے والے افراد کو مقررہ تاریخ پر بلایا جاتا ہے اور موقع پر دوبارہ حتمی تصدیق کی جاتی ہے۔ (مثال کے طور پر، اس تقریب میں ۱۰۰ مقررہ افراد میں سے ۱۲ سے ۱۵ غیر حاضر افراد کی جگہ موقع پر موجود دیگر تصدیق شدہ مستحقین کو ٹھیلے جاری کیے گئے)۔
  • عطیات کی شفافیت اور میڈیا ڈسپلے (Transparency & Donor Trust): عام طور پر فلاحی کاموں کی فوٹو گرافی یا میڈیا نمائش پر اٹھنے والے اعتراضات کا مسکت جواب دیتے ہوئے مفتی فیاض صاحب نے وضاحت کی کہ ویڈیو اور تصاویر کا مقصد کسی کی دل آزاری یا اپنی ذات کی نمائش ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک امانت ہے؛ اہل خیر (Donors) جن کی محنت کی کمائی سے یہ پروجیکٹ چلتا ہے، ان کا ۱۰۰٪ اعتماد بحال رکھنا ضروری ہے کہ ان کا پیسہ صحیح جگہ اور مستحق تک پہنچا ہے۔

اس کثیر السطحی تصدیقی نظام (Multi-tier Verification) کے باعث نہ صرف عطیات کا زیاں رکتا ہے بلکہ صرف سچے حقداروں ہی کی عزتِ نفس کی حفاظت کے ساتھ بحالی ممکن ہوتی ہے۔ یہ مستحکم ماڈل تنظیم کے دیگر وسیع تر تعلیمی، طبی اور سماجی منصوبوں میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

 صفاء بیت المال کے متنوع رفاہی، طبی اور تعلیمی منصوبے

صفاء بیت المال ٹرسٹ کی خدمات صرف عارضی طور پر راشن یا آلات کی تقسیم تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا دائرہ کار معاشرتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تنظیم وسیع پیمانے پر پائیدار رفاہی، طبی اور تعلیمی ماڈل کے تحت کام کر رہی ہے:

  ۱. پرانے سامان کی جمع آوری اور گردشی معیشت (Resource Mobilization & Circular Economy)

صفاء بیت المال کا ایک نہایت اہم اور منفرد اقدام گھروں سے پرانا اور ناکارہ سامان (کباڑ/فضول اشیاء) اکٹھا کرنا ہے۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے، یہ عمل محض کباڑ جمع کرنا نہیں بلکہ ایک ماحول دوست اور گردشی مائیکرو اکانومی (Circular Micro-Economy) کی تشکیل ہے۔ گھروں کی ضائع شدہ اشیاء کو فروخت کر کے حاصل ہونے والے سرمائے سے بیواؤں، معذوروں اور غریبوں کی بحالی کے منصوبے ڈائریکٹ فنڈ کیے جاتے ہیں، جس سے بڑے ادارہ جاتی عطیہ دہندگان پر انحصار کم ہوتا ہے اور مقامی سطح پر وسائل کی ازخود پیدوار ممکن بنتی ہے۔

۲. طبی خدمات (Medical Facilities)

کامٹی کے وانجرا علاقے میں عوام کو ارزاں اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 'صفاء کلینک' اور 'صفاء پیتھولوجی لیب' کامیابی کے ساتھ جاری ہیں، جہاں غریب مریضوں کے کم خرچ پر معائنے اور ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

۳. تعلیمی و ترقیاقی اقدامات (Educational Initiatives)

کامٹی کے وانجرا علاقے میں ہی 'صفاء پبلک اسکول' قائم کیا گیا ہے جو کہ ایک انگریزی میڈیم اسکول ہے۔ اس ادارے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں جدید انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اعلیٰ دینی تعلیم و تربیت بھی دی جاتی ہے۔ تعلیمی مشن کو مزید وسعت دینے کے لیے ادارے نے دو (2) ایکڑ زمین بھی خرید لی ہے تاکہ مستقبل میں تعلیمی نیٹ ورک کو بڑھایا جا سکے۔

۴. عوامی شمولیت: 'صدقہ پیٹی' کا قیام

تمام رفاہی اور تعلیمی کاموں میں عام شہریوں کو شریک کرنے کے لیے صفاء بیت المال نے عوامی اپیل کی ہے کہ ہر شخص اپنے گھر میں ایک 'صدقہ پیٹی' رکھے اور اس میں اپنی استطاعت کے مطابق باقاعدگی سے رقم جمع کرے۔ یہی چھوٹی چھوٹی رقمیں مل کر ایک بڑی فلاحی طاقت بن جاتی ہیں۔

۵. سابقہ اقدامات

موجودہ ۱۰۰ ٹھیکوں کی تقسیم سے قبل بھی رہبر فاؤنڈیشن اور صفاء بیت المال نے کامٹی اور اطراف کے علاقوں میں کثیر تعداد میں بیوہ، مطلقہ اور معذور خواتین میں سلائی مشینیں تقسیم کی تھیں اور اس سے قبل بھی کئی مرحلوں میں ٹھیلے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

تجزیاً، ناکارہ سامان کو کارآمد معاشی وسائل میں تبدیل کرنا اور صحت و تعلیم کی بنیادیں فراہم کرنا ایک ایسا ہمہ گیر فلاحی ماڈل ہے جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کو مستقل طور پر بااختیار بناتا ہے۔ یہ جامع کاوشیں براہِ راست ان افراد کی زندگیوں میں تبدیلی لا رہی ہیں جن کا اظہار مستفیدین کے تاثرات سے ہوتا ہے۔

 مستفیدین کے تاثرات اور خود روزگاری کے لائیو اثرات

میدانی سطح پر جب کسی بے روزگار شخص کو روزی روٹی کا معتبر ذریعہ ملتا ہے، تو اس کے نہ صرف معاشی حالات بدلتے ہیں بلکہ اس کا خود اعتمادی اور نفسیاتی وقار بھی بحال ہوتا ہے۔ پیراڈائز لان کامٹی میں ٹھیلے اور سامان حاصل کرنے والے چند مستفیدین کے جذبات اور تاثرات درج ذیل ہیں:

محمد صابر انصاری (کاروبار: آئس/برف)

"میں پہلے سے آئس (برف) کا کام کرتا تھا لیکن وسائل کی کمی تھی۔ آج رہبر فاؤنڈیشن اور صفاء بیت المال کی طرف سے مجھے یہ ٹھیلہ ملا ہے۔ اب میں پوری محنت اور کوشش کر کے اپنے اس کاروبار کو آگے بڑھاؤں گا۔ میں اس تعاون پر فاؤنڈیشن کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں اور مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔"

وپن گائیکواڑ (سکونت: جے بھیم چوک، کامٹی)

"مجھے رہبر فاؤنڈیشن کی جانب سے نہ صرف ہاتھ ٹھیلہ دیا گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ بیچنے کے لیے تازہ پھل (Fruits) بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ اس ٹھیلے کے ذریعے میں اپنا کاروبار بہتر کروں گا، اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کروں گا اور اپنی والدہ کی دوائیوں کا خرچ خود اٹھاؤں گا۔ میرے دوست بھی میری اس خوشی میں ساتھ آئے ہیں۔ فاؤنڈیشن کا یہ مشن انتہائی بہترین اور قابلِ تعریف ہے۔"

محمد شاداب (سابقہ کاروبار: تیل کا کاروبار)

"پہلے میرا تیل کے ڈبوں کا کاروبار تھا لیکن اس میں مجھے شدید نقصان ہو گیا جس کی وجہ سے میرا کام دھندا مکمل طور پر بند ہو چکا تھا اور میں پریشان تھا۔ اب رہبر فاؤنڈیشن اور صفاء بیت المال کی طرف سے مجھے یہ نیا ٹھیلہ اور سامان ملا ہے۔ میری روزی روٹی اب دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ میں اب محنت سے کماؤں گا اور اپنا کام ایمانداری سے آگے بڑھاؤں گا۔"

معاشی نقطہ نظر سے، ایک ہاتھ ٹھیلہ یا سلائی مشین محض آلہ نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کے لیے معاشی تحفظ کی ضمانت ہے۔ یہ ان افراد کو ذہنی تناؤ اور بے روزگاری کے دلدل سے نکال کر معاشرے کا فعال، پیداواری اور باوقار شہری بناتا ہے، جو کہ سماجی اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

 حاصل کلام: پائیدار فلاحی ماڈل اور مستقبل کا لائحہ عمل

کامٹی (ناگپور) میں صفاء بیت المال ٹرسٹ اور رہبر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ ۱۰۰ ہاتھ ٹھیکوں کی تقسیم کی یہ تقریب درحقیقت انسان دوستی، معاشی خود انحصاری، اور تنظیمی شفافیت کا ایک نادر اور بے مثال امتزاج ہے۔ مساجد کے نظام کے ذریعے مستحقین کی غیر جانبدارانہ تلاش، شفاف کثیر السطحی تصدیقی عمل، اور بلا تفریقِ مذہب و ملت انسانی بنیادوں پر مدد نے اس اقدام کو محض ایک تقریب کے بجائے ایک پائیدار سماجی تحریک بنا دیا ہے۔

اس فلاحی مشن کی استقامت اور توسیع کا انحصار عوامی تعاون پر ہے۔ عوام الناس کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں صدقہ پیٹی کے قیام، گھروں کے ناکارہ و پرانے سامان کا عطیہ دینے، اور مالی تعاون کے ذریعے ان بنیادی تعلیمی (صفاء پبلک اسکول)، طبی (صفاء کلینک و لیب) اور روزگار کے منصوبوں کو تقویت بخشیں۔

حتمی تجزیے کے مطابق، اگر صفاء بیت المال اور رہبر فاؤنڈیشن کے اس پائیدار فلاحی ماڈل—یعنی "بلا تفریق انسانی خدمت اور خود کفالت پر مبنی بحالی"—کو دیگر سماجی و رفاہی تنظیمیں بھی بڑے پیمانے پر اپنا لیں، تو نہ صرف خطِ غربت سے نیچے سسکتے خاندانوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے بلکہ معاشرے سے بے روزگاری، عدم مساوات اور مانگنے کے رجحان کا مکمل اور دائمی خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔


Post a Comment

0 Comments