ڈاکٹر محمد اسد اللہ اور کامٹی کا ایکلویہ
ریحان کوثر
مدیر: ماہنامہ الفاظِ ہند کامٹی
پرنسپل: ربانی آئی ٹی آئی، کامٹی
جب انسان کسی پر انگلی اٹھاتا ہے، تو اکثر بھول جاتا ہے کہ باقی چار انگلیاں خود اسی کے دل کا پتا دے رہی ہوتی ہیں۔ تنقید، اعتراض اور بلاوجہ کی نکتہ چینی کے تیر چلانے والے تو ادب کے ہر موڑ پر صف بستہ مل جاتے ہیں، لیکن اس خاردار اور پرپیچ راستے پر جب پاؤں لہولہان ہوں، تو کوئی ہاتھ بڑھا کر انگلی تھامنے والا ملنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔ بیشتر لوگ تو صرف شمع بجھانے یا قدم اکھاڑنے کی فکر میں دبلے ہوتے رہتے ہیں۔
جنوری 2014ء کی ایک سرد اور خاموش صبح تھی، جب میں نے خوابوں کے چند ناپختہ ورق اکٹھے کیے اور 'ماہنامہ الفاظِ ہند' کی بنیاد رکھی۔ مجھ معصوم کو کیا معلوم تھا کہ حرفِ صداقت کا چراغ جلاتے ہی ہر طرف سے ہواؤں کے تیور بدل جائیں گے۔ کامٹی اور ناگپور کے کچھ مقتدر اور نام نہاد ادبی چہرے یکایک حرکت میں آ گئے۔ بظاہر تو محبت کی منافقانہ مسکراہٹوں کا چولا اوڑھ رکھا تھا، لیکن پسِ پردہ سازشوں اور حسد کا ایک طویل، تاریک دور شروع ہو گیا۔ ہر اہتمام اس بات کا تھا کہ یہ دیا جلنے سے پہلے ہی بجھ جائے۔ میں اس بے فیض اور دردناک 'مہابھارت' میں بالکل اکیلا، حیران اور شکستہ دل کھڑا تھا۔
ایسے میں، جب امید کی آخری کرن بھی بادلوں کے پیچھے چھپتی محسوس ہو رہی تھی، تاریکی کے اس حبس میں ایک شفیق اور روشنی سے بھرا ہاتھ آگے بڑھا۔ اس ہاتھ نے نہ مجھے کوئی لمبا خطبہ دیا، نہ نصیحتوں کی بوچھاڑ کی—بس خاموشی سے اپنی انگلی میری سمت بڑھا دی۔
وہ انگلی ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کی تھی۔
وہ صرف ایک انگلی کا لمس نہیں تھا، بلکہ ایک استاد، ایک رہنما اور ایک سچے محسن کے وجود کا سائبان تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے ان کی انگلی تھامی، اور ان کے بھروسے کی گرمی نے میرے وجود میں نیا خون دوڑا دیا۔ اس ایک انگلی کے سہارے میں اردو ادب کے ان دشوار، پرخار اور خطرناک ؛کروکشیتر' کے میدان میں نڈر ہو کر نکل پڑا، جہاں کبھی تنہا قدم رکھتے ہوئے بھی خوف آتا تھا۔
آج جب میں پلٹ کر اس سفر کو دیکھتا ہوں، تو احساس ہوتا ہے کہ دنیا کا دباؤ اور سازشیں آپ کے راستے کی رکاوٹ تب تک ہی بن سکتی ہیں جب تک آپ کے ساتھ کوئی سچا رہنما نہ ہو۔ نکتہ چینوں نے تو انگلیاں اٹھا کر اپنا ہی چہرہ بے نقاب کیا، لیکن ایک شفیق استاد کی تھامی ہوئی انگلی نے مجھے یہ سکھایا کہ ادب، تنقید سے نہیں بلکہ ظرف اور محبت سے زندہ رہتا ہے۔ انسان کی اصل فتح یہ نہیں کہ وہ کتنی مخالفتوں کو ہراتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بکھرنے کے وقت کسی ایسے ہاتھ کو پا لے جو اسے ٹوٹنے نہ دے۔ ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کی وہی ایک انگلی، آج میرے لیے ہزاروں سہنا دانوں کی دعا اور ادب کی شاداب وادیوں کا پتا بن چکی ہے۔
جب انسان کسی بڑے سفر کا آغاز تنہا کرتا ہے، تو سب سے بڑا روگ راستے کی طوالت نہیں بلکہ توشے کی کمی ہوتا ہے۔ 'ماہنامہ الفاظِ ہند' جب دنیا کے سامنے آیا تو اس کے ناتواں کندھوں پر خوابوں کا بوجھ تو بہت تھا، لیکن صفحات کو سجانے کے لیے سیاہی اور مواد کی شدید کمی تھی۔ آنکھیں دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ کوئی نیا مسافر آئے اور اس کارواں میں اپنا حصہ ڈالے۔ میں نے اس بے سروسمانی کے عالم میں قلم کاروں کی تلاش شروع کی۔ اسی جستجو میں ایک دن اپنے پڑوسی اور محترم اختر الدین معروفی صاحب کے در پر دستک دی اور ان سے گزارش کی کہ وہ اپنے قیمتی قلم سے ہمارے رسالے کو رونق بخشیں۔ انہوں نے محبت سے مسکرا کر ایک ایسی بات کہی جو آج بھی میرے دل میں نقش ہے:
”ریحان! میں تو صرف قاری ہوں، لکھاری نہیں۔ ہاں، میں اپنے دلہے بھائی (جیجا) ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب سے کہتا ہوں کہ وہ 'الفاظِ ہند' کے لیے کچھ لکھیں۔“
اس گفتگو کے کچھ ہی دنوں بعد، ایک پرسکون دوپہر کو اسد اللہ سر اپنی سسرال تشریف لائے—جو ہمارے گھر سے محض ایک مکان کے فاصلے پر ہے۔ ملاقات ہوئی، شفقت بھری نظروں نے مجھے دیکھا، اور انہوں نے محبت کی علامت کے طور پر2013 میں شائع اپنی ایک کتاب" گپ شپ " مجھے عنایت فرماتے ہوئے کہا:
"اس میں سے جو چاہیں، اپنے رسالے میں شائع کر لیں۔"
محبت کا یہ سفر یہیں نہیں رکا۔ وہ گھر پہنچے اور ڈی ٹی پی کی دنیا کی وہ مشکل گھڑی آسان کر دی جب انہوں نے اس کتاب کی پوری 'ان پیج' فائل مجھے بھجوائی، تاکہ کمپوزنگ میں وقت ضائع نہ ہو۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر، انہوں نے صرف خود ہی قلم نہیں اٹھایا، بلکہ ملک کے بڑے اور مقتدر قلم کاروں تک رسائی کی اور انہیں ترغیب دی کہ وہ اس نوخیز رسالے کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اس طرح، ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب نے نہ صرف میرے لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دیا، بلکہ اس ناتواں اور نو زائیدہ 'الفاظِ ہند' کی انگلی تھام کر اسے چلنا سکھا دیا۔
ادب کی دنیا میں جب رسائل و اخبارات اٹھتے ہیں، تو اکثر سنگِ ریزے اور کانٹے ہی راہ میں بکھرے ملتے ہیں۔ لیکن قدرت کا قانون عجب ہے؛ جب وہ ایک دروازہ بند کرتا ہے تو پڑوسی کی دہلیز سے ہوتے ہوئے کسی ایسے مخلص محسن کا رستہ کھول دیتا ہے جو بنا کسی غرض کے آپ کے خواب کو اپنا خواب سمجھ لیتے۔ اختر الدین معروفی صاحب کا انکار دراصل ایک وسیلہ بن گیا، اور ڈاکٹر اسد اللہ صاحب کا وہ احسان—جو کتاب کی شکل میں، ان پیج فائل کی صورت میں اور بڑے لکھنے والوں کو جوڑنے کی تگ و دو میں ظاہر ہوا—یہ ثابت کر گیا کہ ادارے صرف کاغذ اور سیاہی سے نہیں بنتے، بلکہ اپنوں کی دعاؤں، اساتذہ کی شفقت اور سچے جذبوں کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ آج جب 'الفاظِ ہند' کے صفحات پلٹتا ہوں، تو ہر حرف کے پیچھے مجھے اسی انگلی کا لمس محسوس ہوتا ہے، جس نے اندھیروں میں چراغ جلانے کا ہنر سکھایا تھا۔
مواد کی کمی کا بادل چھٹا تو سامنے ایک اور بڑا پہاڑ کھڑا تھا—'ماہنامہ الفاظِ ہند' کی بقا، اس کی استقامت اور معاشی جلاوطنی کا مسئلہ۔ کسی بھی ادبی رسالے کے لیے اس کی سانسیں بحال رکھنا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ ممبرشپ کے دروازے تک رسائی یا سرکاری اداروں کا مالی تعاون، یہ سب اس نوخیز پودے کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن ان راستوں کے پیچ و خم سے ہم ناواقف تھے۔
ایک اتوار کی صبح، جب مایوسی کے سائے طویل ہونے لگے تھے، ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ جب میں ان کی دہلیز پر پہنچا، تو ان کے چہرے پر ایک پرسکون عزم تھا جو صرف سچے محسنوں کے حصے میں آتا ہے۔ انہوں نے میز پر کچھ کاغذات پھیلا رکھے تھے—یہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL)، نئی دہلی کی وہ اسکیم کا فارم تھا جس کے تحت میگزینز اور کتابیں خرید کر اداروں کو مالی سہارا دیا جاتا ہے۔
اسد سر نے وہ فارم اپنے مبارک اور تجربہ کار ہاتھوں سے خود پر کیا۔ ایک ایک خانے کو بڑی باریکی اور احتیاط سے بھرا، اور شفقت سے مسکرا کر کہا:
”ریحان صاحب! اس فارم کو کونسل کو بھیجنے سے امید ہے کہ وہ آپ کے 'ماہنامہ الفاظِ ہند' کی کچھ کاپیاں خریدیں گے۔ اس سے نہ صرف مالی تعاون ملے گا، بلکہ رسالے کو ایک مضبوط بنیاد بھی حاصل ہوگی۔“
محبت کا یہ عالم کہ فارم پر کرنے کے بعد وہ یہیں نہیں رکے، بلکہ کہنے لگے کہ وہ اسے کل خود ہی پوسٹ کر دیں گے۔ ان کی بے لوث فکر نے مجھے شرما دیا۔ میں نے ان کے ہاتھ سے فارم لیتے ہوئے کہا: "سر! سارا کام تو آپ ہی نے کر دیا، اتنی زحمت کیوں کرتے ہیں؟ یہ کاغذی کارروائی اور پوسٹ کرنے کا کام تو ہم کامٹی جا کر خود کر ہی لیں گے۔"
ان کی وہ دعا اور محنت رنگ لائی، اور کچھ ہی عرصے بعد 'الفاظِ ہند' کی ڈیڑھ سو (150) کاپیاں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے خریداری کے لیے منظور ہو گئیں۔ اس ایک منظوری نے اس ناتواں رسالے کی معاشی رگوں میں جیسے نیا خون دوڑا دیا۔
ادب کے اس سفر نے مجھے ایک تلخ اور ایک شیریں حقیقت کا انمٹ درس دیا۔ جہاں ایک طرف ہمارے ہی شہر—کامٹی اور ناگپور—کے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کی آنکھیں 'الفاظِ ہند' کے وجود سے چندیا گئیں، اور اس کے جاری ہوتے ہی ان کی نیندیں اڑ گئیں کہ یہ چراغ کیسے جل اٹھا؛ وہیں دوسری طرف ڈاکٹر اسد اللہ جیسے روشن ضمیر لوگ بھی تھے جنہوں نے دوسروں کی نیندیں اڑانے کے بجائے، ہمارے خوابوں کی حفاظت کے لیے اپنی نیندیں قربان کر دیں۔
انہوں نے صرف خواب دیکھے ہی نہیں، بلکہ انہیں ساکارکرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے محنت کی۔ حسد کی آگ میں جلنے والے لوگ تو صرف رکاوٹیں بن سکتے ہیں، لیکن کسی مخلص استاد کی ایک انگلی اور اس کی دعائیں جب شاملِ حال ہوں، تو سرکاری ایوانوں کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ 'الفاظِ ہند' کی یہ بقا صرف کاپیوں کی خریداری کی کہانی نہیں ہے، یہ ایک شاگرد اور استاد کے درمیان اس بے لوث رشتے کی داستان ہے، جس نے اندھیروں کے سینے پر چراغوں کی ایک نئی کہکشاں سجا دی تھی۔
ادب کے آسمان پر اڑان بھرنا یا اس کی بلند و بالا سیڑھیاں چڑھنا، شائد چاند پر کمند ڈالنے سے بھی زیادہ کٹھن کام ہے۔ یہاں کوئی ہاتھ پکڑ کر آپ کو منزل کی طرف نہیں کھینچتا، بلکہ ہر قدم پر ٹانگیں کھینچنے والوں کے نرغے ہوتے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ زمین پر گھسٹتے رہیں۔ ایسے میں کسی معتبر اور خوابیدہ ادارے کی چوکھٹ تک پہنچ جانا کسی طلسم سے کم نہیں ہوتا۔
اور پھر باری تھی 'بال بھارتی'—اس مقدس ادارے کی، جس کی سیڑھیاں چڑھنا اور جہاں اپنے قلم کا لوہا منوانا، ہر ادیب اور استاد کا ایک سنہرا اور دور از کار خواب ہوتا ہے۔
یہ ایک صبح کا ذکر ہے، جب میں ایس ایم ڈی پبلک اسکول میں اپنے بچے کے سالانہ تقریب کی رنگینیوں میں گم تھا کہ اچانک جیب میں رکھا فون گونج اٹھا۔ اسکرین پر ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں نے کال رسیو کی تو دوسری طرف سے شفیق آواز آئی:
”ریحان صاحب! کیا آپ بال بھارتی کی ورکشاپ میں جانا چاہتے ہیں؟“
یہ سوال اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ میرے حواس کچھ دیر کے لیے ساکت ہو گئے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا، بس بے ساختہ میرے لبوں سے نکل گیا: "جی سر، بالکل!"
انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "ٹھیک ہے، اب سے کچھ ہی دیر میں بال بھارتی کے اسپیشل آفیسر خان نوید الحق صاحب کا فون آئے گا اور وہ آپ کو اس ورکشاپ کے لیے مدعو کریں گے۔ آپ بلاجھجھک ہاں کہہ دیجیے گا، میں نے آپ کا نام تجویز کر دیا ہے۔"
ابھی اس حیرت کی گرہ پوری طرح کھلی بھی نہ تھی کہ واقعی فون کی گھنٹی دوبارہ بج اٹھی۔ دوسری جانب خان نوید الحق صاحب کی پروقار آواز تھی۔ انہوں نے مجھے 'بال بھارتی'، پونے میں منعقد ہونے والی اس خاص ورکشاپ کے لیے مدعو کیا۔ میں نے عاجزی سے دعوت قبول کی اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ محض ایک ورکشاپ کا بلاوا نہیں تھا، یہ میرے قلم کے سفر کی وہ چوٹی تھی جس تک پہنچنے کا خواب میں نے برسوں سے آنکھوں میں سجا رکھا تھا۔ بال بھارتی کی ان بلند و بالا سیڑھیوں پر قدم رکھنے کے لیے ایک بار پھر ڈاکٹر اسد اللہ صاحب نے آگے بڑھ کر میرے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں تھما دی تھیں۔ اس ایک انگلی کے سہارے نے نہ صرف 'ماہنامہ الفاظِ ہند' کو ایک نئی شناخت دی، بلکہ مجھے بطورِ فرد بھی وہ اعزاز بخشا جس کا تصور محال تھا۔
اس سفر نے میرے لیے خوش بختی کے ایسے دروازے کھولے جن کی میں نے کبھی تمنا بھی نہیں کی تھی۔ جب میں بال بھارتی کے پہلے سفر پر پونے روانہ ہونے لگا، تو اسد صاحب نے مجھے اپنے قریبی اور معتبر دوستوں—ڈاکٹر سید صفدر صاحب اور ناصر الدین انصار صاحب—سے ملوایا۔ اسد سر کی وساطت سے مجھے ناصر الدین انصار صاحب کی بے پناہ محبت اور ڈاکٹر سید صفدر صاحب کی پدرانہ شفقت میسر آئی۔ ان تینوںمفکروں اور محسنوں کی چھاؤں اور رہنمائی میں جب تک میں نے بال بھارتی کے لیے کام کیا، میں نے نہ صرف اپنے فن کو نکھارا بلکہ اپنے شہر کامٹی اور اپنے محبوب رسالے 'الفاظِ ہند' کا پرچم بلند رکھا۔ یہ ڈاکٹر اسد اللہ صاحب کی طرف سے مجھے عطا کیا گیا وہ انمول تحفہ تھا، جسے وقت کی گرد کبھی دھندلا نہیں سکتی۔ بال بھارتی کی وہ طلسماتی چھت، جو مہاراشٹر کے ادبی افق کا سب سے روشن آسمان کہلاتی ہے، میرے لیے کسی خوابستان سے کم نہیں تھی۔ یہ وہی مقدس ادارہ تھا جہاں قدم رکھتے ہی وقت کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے اور تاریخ کے پنکھ کھلنے لگتے ہیں۔ اس چھت کے نیچے، قلم اور فکر کے وہ آفتاب و مہتاب موجود تھے جن کی کرنوں سے اردو ادب کی دنیا منور ہے۔
وہ لمحہ کتنا سحر انگیز تھا جب میری آنکھوں نے ان معتبر اور قدآور شخصیات کو اپنے سامنے پایا جن کے ناموں کی خوشبو سے کتابوں کے ورق مہکتے ہیں۔ یہ صرف چند ناموں سے ملاقات کا شرف نہیں تھا، بلکہ ان تمام عظیم فنکاروں اور دانشوروں کے شانہ بشانہ بیٹھ کر کام کرنے کا ایک ایسا سنہری موقع تھا، جس کا تصور میں نے کبھی تنہائی میں بھی نہیں کیا تھا۔ ایک عام سے قصبے سے اٹھنے والا اور ناتواں قدموں والا انسان جب ان بلند قامت شخصیات کے درمیان پہنچا، تو دل کی دھڑکنیں رک سی گئی تھیں۔ لیکن اسد سر کی تھامی ہوئی انگلیوں کا اعتماد میرے ساتھ تھا، جس نے مجھے اس کہکشاں میں چلنے کے قابل بنایا۔ ان بزرگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے، ان کی صحبت میں بیٹھ کر، میں نے محسوس کیا کہ ادب صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ یہ ظرف، انکساری اور روح کی پاکیزگی کا دوسرا نام ہے۔
وہ چھت میرے لیے صرف ایک دفتر یا ادارہ نہیں رہی، بلکہ وہ میری فکری تربیت کی وہ درسگاہ بن گئی جہاں میں نے زندگی اور ادب کے اصل معنی سیکھے۔ ان تمام ستاروں کی روشنی نے میرے اندر کے اندھیروں کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا، اور یہ سب کچھ اسی ایک شفیق استاد کی انگلیوں کا کمال تھا، جنہوں نے مجھے اندھیروں سے نکال کر اس روشنی کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ اور یہ یادیں، یہ لمحات، میری روح کا وہ سرمایہ ہیں جو کبھی زوال پذیر نہیں ہو سکتا۔
ادب کے اس سنگلاخ اور طویل سفر نے مجھ پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ دشمنوں کی سازشیں اور حسد کرنے والوں کے وار آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اگر آپ کے سر پر کسی سچے استاد، مخلص رہبر اور مسیحا صفت انسان کا ہاتھ ہو۔ جہاں دنیا کا دستور صرف گرانا اور ناامید کرنا ہے، وہیں اسد سر جیسے لوگ فرشتوں کی طرح آتے ہیں جو اندھیروں میں چراغ ہی نہیں جلتے، بلکہ آسمان کے ستارے بھی ہتھیلی پر لا کر رکھ دیتے ہیں۔ بال بھارتی کی سیڑھیاں چڑھنا دراصل اس بات کی سند تھی کہ محبت، اخلاص اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اور ڈاکٹر اسد اللہ صاحب کی تھامی ہوئی وہ انگلی، آج میرے لیے اس پوری کائنات کا سب سے روشن اور طاقتور سہارا بن چکی ہے۔
ادب کی دنیا میں کچھ منزلیں ایسی ہوتی ہیں جن کا تصور بھی انسان خوابوں کی دنیا میں ہی کر سکتا ہے، اور 'آل انڈیا ریڈیو' (آکاشوانی) کا وہ استعارہ ان ہی خوابوں میں سے ایک ہے۔ ناگپور سینٹر کا وہ مشہورِ زمانہ اردُو پروگرام 'آبشار'، جس کے اسٹوڈیو کی دہلیز پار کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتا۔ اس کے مائیکروفون کے سامنے بیٹھ کر اپنے لبوں سے الفاظ کا جادو جگانا اور وہ کلاسک ہیڈ فون اپنے کانوں پر چڑھانا—یہ وہ سعادت تھی جو بڑے بڑے کہنہ مشق ادیبوں کی زندگی بھر کی تپش کا صلہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ معجزہ بھی میری زندگی میں اسی دستِ شفقت کے ذریعے اترا، جو ہمیشہ سے میرے ہمرہ تھا۔
ایک روز، معمول کے مطابق ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے سلام دعا کے بعد ایک ایسا سوال کیا جس نے میرے اندر ہلچل مچا دی:
”ریحان صاحب! آپ غزلیں وغیرہ بھی کہتے ہیں نا؟ یعنی شاعری بھی کرتے ہیں؟“
میں نے ذجھکتے ہوئے جواب دیا: "سر! شاعری تو کر لیتا ہوں، لیکن کبھی مجمعے میں یا کسی بڑے اسٹیج پر نہیں پڑھی، بس اپنے تک ہی محدود رکھتا ہوں۔"
ان کی طرف سے ہلکی سی مسکراہٹ بھری آواز آئی: "کوئی بات نہیں، اب جہاں میں نے آپ کا نام دے دیا ہے، وہاں تو آپ کو پڑھنا ہی پڑے گا!"
میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا: "سر! آپ نے آخر میرا نام کہاں دے دیا ہے؟"
انہوں نے بڑے پرسکون لہجے میں انکشاف کیا: "میں نے آل انڈیا ریڈیو کے ناگپور سینٹر کے اردو پروگرام 'آبشار' کے لیے آپ کا نام بھیج دیا ہے۔ البتہ ایک بات ہے... میں نے آپ کا تعارف ایک افسانہ نگار کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شاعر کے طور پر درج کروایا ہے۔ اب آپ کو اس اسٹوڈیو میں جانا ہوگا اور اپنی غزلیں سنانی ہوں گی۔"
یہ سن کر میرے قدموں تلے سے زمین نکلنے لگی۔ افسانے کے حروف کاغذ پر بکھیرنا ایک الگ ہنر ہے، لیکن اپنی ہی کہی ہوئی شاعری کو ریڈیو کی لہروں کے سپرد کرنا، جہاں لاکھوں انجانے کان اسے سن رہے ہوں—یہ ایک ہلا دینے والا تجربہ تھا۔ لیکن جب اسد سر کا اعتماد پشت پر ہو، تو خوف حوصلے میں بدل جاتا ہے۔ یوں میں پہلی مرتبہ 'آکاشوانی ناگپور' کے اس پرسرار اور مقتدر اسٹوڈیو میں داخل ہوا۔ وہ ہیڈ فون کانوں پر لگایا، سامنے سرخ بتی جل رہی تھی، اور مائیک کے اس پار خاموشی کا ایک ایسا سمندر تھا جس میں میرے دل کی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے کانپتے ہوئے لہجے میں اپنی تین غزلیں اس مائیک پر پڑھیں۔ وہ لمحہ میری ادبی زندگی کا پہلا صدمہ بھی تھا اور پہلا روپ بھی۔ اور پھر اس پہلی سیڑھی نے ایسے سفر کا آغاز کیا کہ آج الحمدللہ، میں اسی آکاشوانی ناگپور سینٹر سے اب تک کل دس مرتبہ اپنی تخلیقات پیش کر چکا ہوں۔ ہر بار جب وہ ہیڈ فون کانوں پر لگتا ہے، مجھے اپنے پیچھے اسد سر کی وہ انگلی اور ان کا وہ اعتماد صاف دکھائی دیتا ہے۔
ادب کے اس طویل اور کٹھن سفر نے مجھ پر یہ سچائی ثبت کر دی ہے کہ دشمنوں کی سازشیں، حسد کی آگ اور راہ کے کانٹے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اگر آپ کے سر پر کسی سچے مرشد کا ہاتھ ہو۔ جب دنیا آپ کو صرف نکتہ چینی کے تیروں سے چھلنی کرنا چاہتی ہے، تو کوئی مسیحا صفت انسان اندھیروں میں چراغ جلا کر آپ کو اس آسمان تک پہنچا دیتا ہے جہاں تک پہنچنے کا خواب آپ نے کبھی اکیلے میں دیکھا تھا۔ ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب نے مجھے صرف ایک رسالے کا سہارا نہیں دیا، بلکہ مجھے وہ آواز دی جو اب فضاؤں میں گونجتی ہے۔ ان کی تھامی ہوئی انگلی آج میرے فن کی معراج بن چکی ہے، اور یہ رشتہ صرف استاد اور شاگرد کا نہیں، بلکہ ایک روشن چراغ سے دوسرے چراغ کے جلنے کی لافانی داستان ہے۔
ممبئی کے مختلف ایوانِ ادب اور 'مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی' کی بلند و بالا دہلیز سے میرا جو رشتہ استوار ہوا، وہ بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اور اس معجزے کے پیچھے بھی اسی ایک ہستی کا ہاتھ تھا—ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کا۔ ان کی شفقت اور دوڑ دھوپ کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اکیڈمی کے توسط سے 'ماہنامہ الفاظِ ہند' کی ساڑھے تین سو (350) کاپیوں کی خریداری منظور کروا لی۔ یہ صرف رسالے کے لیے مالی تعاون نہیں تھا، بلکہ ایک نوخیز پودے کو تناور درخت بننے کی نوید تھی۔ اکیڈمی کی مختلف اسکیموں اور ادبی تائیدوں کے ذریعے، کبھی میرا رسالہ چمکتا رہا اور کبھی میرے اپنے وجود پر ادبی ستارے سجتے چلے گئے۔
کبھی کبھار تنہائی میں بیٹھ کر جب میں ان تمام لمحوں کا احاطہ کرتا ہوں، تو ایک عجیب سا سوال میرے دل میں مچل اٹھتا ہے: کیا ڈاکٹر اسد اللہ سر 'ماہنامہ الفاظِ ہند' کی تقدیر بدلنے میں زیادہ محنت کر رہے تھے، یا میری اپنی ذاتی تقدیر سنوارنے میں؟ ان دونوں سوالوں کا جواب ایک ہی تھا—ان کے لیے میری ذات اور میرا رسالہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔
کامٹی کے گلی کوچوں سے لے کر ناگپور کے ادبی افق تک، اور پھر ممبئی کے سرکاری ایوانوں تک، میرا جو بھی رشتہ بنا، اس کے پسِ پردہ صرف اور صرف ڈاکٹر اسد اللہ سر کا ہاتھ تھا۔ ان کی انگلیاں مسلسل میرے ہاتھوں کو تھامے رہتی تھیں اور مجھے زندگی کے ان ناہموار اور پرخار راستوں پر اعتماد کے ساتھ چلاتی رہتی تھیں، جہاں ہر موڑ پر ٹھوکر کھانے کا ڈر ہوتا ہے۔
ادب کے اس طویل اور سنگلاخ سفر نے مجھے یہ سکھایا کہ انسان اکیلا کتنا ہی ناتواں کیوں نہ ہو، اگر اس کے ساتھ کسی سچے مرشد، مخلص محسن اور بے لوث استاد کا سہارا ہو، تو وہ وقت کی ہر آندھی کو شکست دے سکتا ہے۔ دنیا کا دستور تو صرف ٹانگیں کھینچنا اور انگشت نمائی کرنا ہے، لیکن ڈاکٹر اسد اللہ صاحب جیسے لوگ اپنے خوابوں کی قربانی دے کر دوسروں کے مقدر کا ستارہ روشن کرتے ہیں۔ آج جب 'الفاظِ ہند' کے صفحات لہلہاتے ہیں اور میرا نام ادب کے معتبر ایوانوں میں گونجتا ہے، تو اس کے ہر حرف، ہر سطر اور ہر اعزاز پر مجھے اسی شفیق استاد کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف کاغذ اور سیاہی کا نہیں ہے، بلکہ یہ اندھیروں میں ہاتھ تھام کر منزل تک پہنچانے کی وہ لازوال داستان ہے، جو وقت کے ماتھے پر ہمیشہ روشن رہے گی۔
ڈاکٹر محمد اسد اللہ صاحب کی عنایتوں اور کرم فرمائیوں کی یہ داستان اگر بیان کرتا چلا جاؤں، تو قلم کی سیاہی ختم ہو جائے اور کاغذوں کے انبار لگ جائیں، مگر ان کے احسانات کا دائرہ کبھی سمٹ نہیں سکتا۔
ہمارے اس ملک کا سیاسی، سماجی اور بالخصوص ادبی پس منظر ایک ایسی تلخ حقیقت سے جڑا ہوا ہے جہاں تاریخ کا ایک باب ہمیشہ سے خوفناک رہا ہے۔ یہاں صدیوں سے ایک روایت چلی آ رہی ہے جہاں روایت کے نام نہاد ’دُروناچاریے‘ کسی بنے بنائے ایکلویہ کا انگوٹھا مانگ لیتے ہیں—صرف اس ڈر سے، صرف اس حسد میں کہ کہیں وہ ناتواں شاگرد ہنر کی دوڑ میں ان سے آگے نہ نکل جائے۔
ہمارا معاشرہ، اور بالخصوص ناگپور اور کامٹی کا یہ خطہ بھی اسی روایت کا ایک مسخ شدہ چہرہ ہے۔ یہاں ایسے دُروناچاریوں کی کوئی کمی نہیں جو ہنر مندوں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے ہیں، جن کی پوری زندگی اس تگ و دو میں گزرتی ہے کہ کوئی دوسرا ان کے قد سے اونچا نہ ہو سکے۔ اس سنگلاخ اور خود غرض ماحول میں کسی کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھانا تو بہت دور کی بات، یہاں تو ہر کوئی گرانے کی تاک میں بیٹھا رہتا ہے۔
لیکن میری یہ کہانی، یہ روداد اور یہ تاریخ کسی ظالم روایت کی نہیں، بلکہ ایک مسیحا صفت، عظیم اور درویش صفت شخصیت کی ہے—ڈاکٹر محمد اسد اللہ کی۔
انہوں نے مجھ جیسے ناتواں، اکیلے اور ناچیز سے کبھی میرا انگوٹھا نہیں مانگا۔ انہوں نے میرے ہنر کو ذبح کرنے کی کوئی سازش نہیں رچی۔ اس کے برعکس، جب میں اندھیروں میں بھٹک رہا تھا، انہوں نے اپنی انگلی بڑھا کر میرے ہاتھوں میں تھما دی۔ انہوں نے مجھے کمان کا دھاگہ کھینچنا سکھایا، تیر کو صحیح نشانے پر بٹھانا سکھایا، اور جب بھی میری ڈگمگاتی کمان لرزنے لگی، انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھ کو تھام کر نشانہ تاکنا سکھایا۔
آج جب میں اس طویل سفر پر پلٹ کر دیکھتا ہوں، تو میرا دل جزبات سے بھر جاتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میری زندگی میں کوئی ایسا دُروناچاریہ نہیں آیا جو میرا انگوٹھا کاٹتا، بلکہ مجھے ڈاکٹر اسد اللہ جیسا شفیق استاد ملا جس نے انگوٹھا کاٹنے کے بجائے، خود اپنی انگلیاں تھما کر مجھے اس لائق بنا دیا کہ میں زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکوں۔ اس ادبی سفر کے ہر قدم پر، ہر موڑ پر، ہمیشہ اسد اللہ سر کی انگلیوں کا گرم اور روشن لمس میرے ساتھ رہے گا—اور یہی میرا سب سے بڑا سرمایہ، میری سب سے بڑی فتح ہے۔ ادب کی تاریخ میں ہمیشہ دو طرح کے کردار رہے ہیں: ایک وہ جو چراغ جلنے سے خوفزدہ ہو کر ہوا کا رخ موڑ دیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو خود شمع بن کر دوسروں کے راستے روشن کرتے ہیں۔ کامٹی اور ناگپور کی اس ادبی زمین پر جہاں حسد اور قدغن کی دیواریں کھڑی کرنے والے بہت تھے، وہیں ڈاکٹر اسد اللہ نے اپنے وجود سے ایک ایسی چھاؤں پیدا کی جس نے تمام طوفانوں کو روک لیا۔
دُروناچاریوں کی تاریخ ظلم اور محرومی کی کہانی ہے، لیکن ڈاکٹر محمد اسد اللہ کی یہ داستان محبت، ایثار اور شفا کی وہ لافانی لکیر ہے جو وقت کے ماتھے پر کبھی دھندلی نہیں پڑ سکتی۔ انہوں نے مجھے صرف ایک قلم کار یا رسالے کا ایڈیٹر نہیں بنایا، بلکہ مجھے ایک شناخت دی، ایک آواز دی اور جینے کا ہنر سکھایا۔ یہ انگلیاں صرف گوشت اور پوست کا سہارا نہیں ہیں، یہ میرے ادبی وجود کی روح ہیں—اور جب تک میرے ہاتھ میں قلم ہے، ان انگلیوں کا لمس میری ہر سطر میں زندہ رہے گا۔
٭٭٭

0 Comments