فاروق سید سے سات ملاقات
ریحان کوثر
مدیر: ماہنامہ الفاظِ ہند کامٹی
پرنسپل: ربانی آئی ٹی آئی، کامٹی
فاروق سید صاحب سے میری پہلی ملاقات کا منظر آج بھی میرے حافظے کی سکرین پر کسی خوبصورت فلم کے دلکش سین کی طرح نقش ہے۔یہ وہ وقت تھا جب علم و ادب کے شہر، پونہ کی معروف درس گاہ 'بال بھارتی' کے در و دیوار ایک منفرد علمی چہل پہل سے مہک رہے تھے۔ دوسری جماعت کی کتاب پر تنقید و تبصرے کی غرض سے وہاں اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور ماہرینِ لسانیات کی ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا، اور خوش قسمتی سے مجھے بھی پہلی مرتبہ اس معتبر محفل میں شرکت کا اذن ملا تھا۔ مہاراشٹر کے چھتیس اضلاع سے چنیدہ، اپنے اپنے فن کے ماہرین اور اردو زبان و ادب کے پاسبان وہاں موجود تھے۔ بال بھارتی کا وسیع و عریض 'شواجی ہال' علم و دانش کے اس ہجومِ عاشقاں سے کچھ اس طرح کھچا کھچ بھرا ہوا تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔
اسی زمانے میں میری ایک نئی کتاب "ڈاٹ کام" منظرِ عام پر آئی تھی۔ جذبات کا ایک طوفان تھا اور دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ کاش کوئی ایسا صاحبِ نظر ملے جو اس تخلیق کی قدر کر سکے۔
ہم سب ہال میں موجود تھے کہ اچانک فضا میں ایک باوقار ارتعاش پیدا ہوا۔ ہال کے مرکزی دروازے سے ایک ایسی شخصیت داخل ہوئی جس نے پہلی ہی نظر میں سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ معلوم ہوا کہ ان دنوں محترم فاروق سید صاحب کسی آپریشن کے مرحلے سے گزرے تھے، جس کا عکس ان کے سراپے سے نمایاں تھا۔ سر پر باریک تراشے ہوئے بال، آنکھوں پر سجا کالا خوبصورت چشمہ اور بلیزر کے اوپر کندھوں پر روایتی انداز میں سلیقے سے ڈالا ہوا مفلر— ان کا یہ سحر انگیز روپ ایسا تھا کہ میں انہیں بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ وقار اور سادگی کا ایک انوکھا امتزاج لگ رہے تھے۔ ذاتی طور پر مجھے ان کے اس طرح باریک تراشے ہوئے بال ان کے لمبے بالوں والے لُک سے زیادہ پسند تھے۔ خیر! میری وارفتگی کو دیکھ کر میرے پہلو میں بیٹھے ایک ساتھی نے میری کہنی ہلائی اور سرگوشی کے انداز میں کہا،
”یہ فاروق سید صاحب ہیں... بچوں کے ہر دلعزیز رسالے 'گل بوٹے' کے مدیرِ اعلیٰ!“
یہ سنتے ہی میرے اندر کا مصنف جاگ اٹھا۔ میں نے دھڑکتے دل اور عقیدت سے لبریز قدموں کے ساتھ ان کی طرف پیش قدمی کی اور اپنی کتاب 'ڈاٹ کام' انتہائی ادب کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کی۔ انہوں نے بڑے اچھوتے اور مشفقانہ انداز میں کتاب کو ہاتھوں میں لیا۔ صفحات پلٹے، کتاب کے اچھوتے موضوع کو سراہا اور اس کی عمدہ پرنٹنگ پر دیدہ زیب مسکراہٹ کے ساتھ میری دل کھول کر تعریف کی۔ ایک نوآموز تخلیق کار کے لیے کسی ادبی قد آور شخصیت کے منہ سے نکلے ہوئے وہ توصیفی کلمات کسی آبِ حیات سے کم نہ تھے۔ ان کے اس والہانہ حوصلے نے میرے اندر کے قلم کار کو ایک نئی اڑان اور حوصلہ بخشا اور وہ پہلی ملاقات ہمیشہ کے لیے میری زندگی کا ایک یادگار اور انمول باب بن گئی۔
٭
پہلی ملاقات کا وہ جادوئی سحر ابھی دل و دماغ پر طاری تھا کہ اسی ورکشاپ کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے میرے دل میں فاروق سید صاحب اور خان نوید الحق صاحب کی عظمت کا نقش ہمیشہ کے لیے گہرا کر دیا۔
صبح جب میں بال بھارتی کے ہاسٹل پہنچا تو وہاں تمام مہمان اساتذہ اور ماہرین کو کمرے الاٹ کیے جا رہے تھے۔ فضا میں ایک ہلچل سی تھی، ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن شاید میری کم آمیزی، لاعلمی یا قسمت کی کسی خوبصورت ستم ظریفی کے باعث مجھے کوئی کمرہ یا بستر الاٹ نہ ہو سکا۔ دن بھر کی علمی مصروفیات اور بحث و تکرار کے بعد جب شام ڈھلی اور رات گہری ہو چلی تھی، تھکن سے چور اور اجنبیت کے احساس سے گھبرایا ہوا میں، اپنے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے خان نوید الحق صاحب کو ڈھونڈتے ہوئے ہاسٹل کی پہلی منزل پر پہنچا۔
کوریڈور کے ایک کمرے کا دروازہ کھلا تو میں نے اندر جھانکا۔ وہاں کا منظر دیدنی تھا؛ شولا پور سے آئے ہوئے نامور اساتذہ اور سینیئر ماہرینِ لسانیات، جو مجھ سے کہیں زیادہ مرتبے والے تھے، فرش پر بستر لگائے سادگی کے ساتھ محوِ استراحت تھے۔ اس پورے کمرے میں صرف ایک ہی پلنگ تھا، جس پر خان نوید الحق صاحب اور فاروق سید صاحب تشریف فرما تھے اور کسی علمی گفتگو میں مصروف معلوم ہوتے تھے۔
میں نے دبی زبان اور جھجکتے ہوئے خان نوید الحق صاحب سے عرض کیا،
”سر! مجھے رات گزارنے کے لیے کوئی کمرہ یا بیڈ نہیں مل سکا ہے۔“
میری بات سن کر خان نوید الحق صاحب کے چہرے پر افسوس اور فکرمندی کے تاثرات ابھر آئے۔ ابھی وہ کچھ کہنے ہی والے تھے کہ پلنگ پر بیٹھے فاروق سید صاحب نے کمالِ شفقت سے میری طرف دیکھا۔ ان کی دور رس آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور دل میں ایک بزرگانہ تڑپ تھی اور انہوں نے بغیر کسی تامل کے بڑے پیار سے کہا:
”ریحان صاحب! آپ بالکل فکر نہ کریں۔ آپ اپنا بیگ اٹھائیے اور اس پلنگ پر آ جائیے... یہاں آرام کیجئے!“
میں ساکت رہ گیا، حیرت کا ایک سمندر تھا جو میرے اندر موجزن تھا۔ جہاں مہاراشٹر بھر سے آئے ہوئے سینیئر اساتذہ اور بال بھارتی کے پرانے شناسا فرشِ خاک پر سو رہے تھے، وہاں ان دونوں عبقری شخصیتوں نے کمالِ ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ واحد پلنگ مجھ جیسے ایک نوآموز اور جونیئر قلم کار کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے مجھے اس پلنگ پر بٹھا تو دیا، لیکن میرے دل پر حیرت اور عقیدت کا ایک ایسا بوجھ رکھ دیا جسے میں کبھی اتار نہیں سکتا تھا۔
میں نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور بوجھل دل کے ساتھ اس بستر پر لیٹ گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں ہاسٹل کے اس کمرے سے خاموشی سے نکل گئے۔ مجھے آج تک نہیں معلوم کہ ادب کے وہ دو درخشندہ ستارے اس اندھیری اور سرد رات میں کس کمرے کا رخ کر گئے، انہوں نے کہاں پناہ لی اور کس حال میں رات گزاری۔
رات بیت گئی اور صبحِ نو کی پہلی کرن نے جب بال بھارتی کی کھڑکیوں پر دستک دی، تو میری آنکھ کھلی۔ ہاسٹل کا وہ کمرہ اب روشن ہو چکا تھا۔ میں اس پلنگ سے اٹھا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں رات بھر کسی عام لکڑی کے تخت پر نہیں، بلکہ ان دونوں مخلص انسانوں کی بے غرض محبت، ایثار اور عظمت کے سائبان تلے سویا تھا۔ وہ رات مجھے سکھا گئی کہ بڑا انسان وہ نہیں ہوتا جس کا مرتبہ بڑا ہو، بلکہ بڑا وہ ہوتا ہے جس کا ظرف بڑا ہو، جو دوسروں کو آرام دینے کے لیے خود کو تکلیف میں ڈال لیتا ہے۔ فاروق سید اور خان نوید الحق صاحب کی اس بے لوث قربانی نے میرے دل کی بنجر زمین پر محبت کے وہ 'گل بوٹے' کھلائے، جن کی خوشبو آج بھی میرے قلم اور میری زندگی کو مہکا رہی ہے۔ وہ سچی اور لازوال شرافت، جو کسی صلے یا شہرت کی محتاج نہیں تھی، ہمیشہ کے لیے میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ بن گئی۔
٭
یہ سن 2018 کا ذکر ہے، جب مجھے بال بھارتی کی اردو لسانی کمیٹی کے مشاورتی پینل میں شامل ہونے کا اعزاز ملا۔ علم و ادب کے اس باوقار فورم کی پہلی میٹنگ کا احوال بھی خواب جیسا تھا، لیکن اس دن کا سب سے یادگار اور انقلاب آفریں لمحہ دوپہر کے کھانے کے بعد اس وقت آیا، جب فاروق سید صاحب دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے میرے پاس آ کر رک گئے۔ یہ ان سے میری تیسری ملاقات تھی۔
ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح ایک سنجیدہ فکر مندی تھی، جو کسی بڑے مقصد کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ انہوں نے روایتی علیک سلیک کے بعد کمالِ سادگی سے مجھ سے کہا،
"ریحان صاحب! اپنا موبائل فون تو دیجئے اور ذرا یوٹیوب کھولیے۔"
میں نے حیرت کے ساتھ فون ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ انہوں نے یوٹیوب کی سرچ بار میں اپنے ڈیجیٹل نیوز چینل کا نام ٹائپ کیا، جو انہوں نے اردو صحافت کی بقا کے لیے شروع کیا تھا، اور بڑے مان کے ساتھ اسے خود ہی سبسکرائب کر دیا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یہ بات تھوڑی عجیب سی لگی کہ اردو ادب کا اتنا بڑا نام خود ایک ایک سبسکرائبر کے لیے متحرک ہے، لیکن اگلے ہی پل جب انہوں نے اپنی گفتگو کا دفتر کھولا، تو میری حیرت عقیدت اور گہرے ادراک میں بدل گئی۔
انہوں نے موبائل مجھے واپس کرتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور کہا:
"ریحان صاحب! یہ جو ڈیجیٹل دنیا کا مفت آپشن ہے، لوگ نہ جانے کیوں اسے استعمال کرنے اور اپنے لوگوں کا ساتھ دینے میں کنجوسی کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اردو زبان کا ایک ایسا بڑا اور مضبوط میڈیا پلیٹ فارم کھڑا ہو جو سچ کی آواز بن سکے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اپنے علاقے، کامٹی اور ناگپور میں لوگوں کو اس مہم سے جوڑیں اور اس چینل کی ریچ بڑھانے میں مدد کریں۔"
انہوں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جو بات کہی، وہ میرے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئی۔ کہنے لگے:
"یہ جو ہمارا روایتی میڈیا ہے، یہ روز بروز یکطرفہ، متعصب اور دوغلا ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا طاقتور ڈیجیٹل میڈیا ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے جو نیشنل لیول پر ہماری آواز، ہمارے مسائل اور ہمارے سچے جذبات کو بغیر کسی خوف کے سامنے رکھ سکے۔"
ان کی اس بات میں جو خدشات اور تڑپ چھپی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سچ ثابت
ہوتی گئی۔ 2018 کی اس دوپہر کا فلسفہ مجھے اس وقت پوری شدت کے ساتھ سمجھ آیا جب ملک 'کورونا' کی ہولناک وبا کی گرفت میں تھا، اور دہلی کے نظام الدین مرکز اور تبلیغی جماعت کے کاندھوں پر رکھ کر ہندوستانی مسلمانوں پر الزامات کی زہریلی گولیاں چلائی جا رہی تھیں۔ اس نازک اور پرآشوب دور میں، میں جب بھی ٹی وی اسکرینوں پر زہر اگلتے ہوئے اینکرز کو دیکھتا، تو مجھے پونے کی وہ دوپہر اور فاروق بھائی کی وہ دور اندیش باتیں یاد آتیں کہ "میاں! ہمارا اپنا ایک بڑا میڈیا ہونا چاہیے۔"
آج جب میں ماضی کے ان جھروکوں میں جھانکتا ہوں، تو میرا دل ایک عجیب سے ملال اور اداسی سے بھر جاتا ہے۔ فاروق سید صاحب کا وہ خواب، جو انہوں نے ایک دردِ مند دل کے ساتھ دیکھا تھا، وہ عظیم خواب آج بھی ادھورا ہے۔ وہ دور اندیش آنکھیں تو بند ہو گئیں، لیکن ان کا وہ سوال آج بھی وقت کی بساط پر تشنہ کھڑا ہے۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی اور المیہ ہے کہ آج بھی ہم اپنے آپ کو حالاتِ حاضرہ سے جوڑنے کے لیے اسی 'گودی میڈیا' کے محتاج ہیں جو صبح و شام ہمارے وجود اور ہمارے تشخص کے خلاف نفرت کا کاروبار کرتا ہے۔
دلیپ کمار کی فلم کے کسی غمگین کلائیمیکس کی طرح، یہ کہانی ابھی کسی خوبصورت انجام کی منتظر ہے۔ فاروق بھائی نے اپنی انگلیوں سے میرے فون پر جو چینل سبسکرائب کیا تھا، وہ محض ایک یوٹیوب بٹن دبانا نہیں تھا، بلکہ وہ ایک بیدار مغز رہنما کا میرے ضمیر پر دستک دینا تھا کہ 'اب بھی جاگ جاؤ!'
وہ ایک ایسے درویش صفت صحافی تھے جنہوں نے قوم کو اندھیروں سے بچانے کے لیے ایک شمع جلائی تھی، مگر کارواں نے اس چراغ کی قدر نہ کی۔ ان کا یہ ادھورا خواب آج بھی ہمیں پکار رہا ہے کہ ہم سستی تفریح اور بھیڑ کا حصہ بننے کے بجائے، اپنی انفرادیت پہچانیں اور اپنے قلم، اپنے میڈیا اور اپنی سچی آواز کو اتنی طاقت بخشیں کہ ہمیں سچ جاننے کے لیے دشمن کے آئینے کا سہارا نہ لینا پڑے۔ فاروق بھائی کی وہ تڑپ میرے دل میں ایک مشعل کی طرح جل رہی ہے، اور جب تک ہم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوتے، ان کا یہ خواب ہمارے ضمیر پر ایک خوبصورت مگر گہرا قرض رہے گا۔
٭
فاروق سید صاحب کے ساتھ گزری ملاقاتوں کے سفر میں، چوتھی ملاقات میری زندگی کا سب سے طویل، سب سے گہرا اور سب سے انمول باب بن کر ابھری۔ یہ وہ وقت تھا جب 'گل بوٹے' کے جشنِ سیمینار کے موقع پر ایک ساتھ پچیس کتابوں کی اشاعت کا تاریخی فیصلہ کیا گیا تھا، اور ان کتابوں کے
سرورق (کور ڈیزائن) کی تیاری کے لیے مجھے خصوصی طور پر تین روز کے لیے پونے بلایا گیا تھا۔
پونے کی اس پرسکون فضا میں، تین دنوں تک جاری رہنے والی اس تخلیقی خلوت میں فاروق سید صاحب، خان نوید الحق صاحب اور میرے علاوہ کوئی تیسرا موجود نہ تھا۔ وہ تین دن محض کتابوں کے ڈیزائن تیار کرنے کے دن نہیں تھے، بلکہ میرے لیے علم، دانش اور تربیت کی ایک ایسی درسگاہ تھے جہاں میں نے زندگی کے اونچے نیچے اور دشوار گزار راستوں پر چلنے کا ہنر سیکھا۔ اسی نشست کے دوران، فاروق بھائی نے بڑے مان سے میری ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامے 'الفاظِ ہند' اور میرے پیارے شہر کامٹی کا ذکر چھیڑا۔ انہوں نے 'الفاظِ ہند' کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے، اسے صحافتی و ادبی دنیا میں استحکام بخشنے اور ایک باوقار رسالہ بنانے کے لیے مجھے ایسے گراں قدر مشورے اور گر سکھائے جو میرے دل میں روشنی بن کر اتر گئے۔ ان تین دنوں میں فاروق بھائی کی شخصیت کا ایک بالکل نیا اور شفاف روپ میرے سامنے کھل کر آیا۔
یوں تو ان تین دنوں کی ایک ایک گھڑی اپنے اندر داستانیں چھپائے ہوئے ہے، لیکن ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے مجھے فاروق بھائی کی درویشی اور بے نفسی کا قائل کر دیا۔
ان پچیس کتابوں میں ایک خاص کتاب وہ تھی جسے فاروق بھائی کی صاحبزادی مرتب کر رہی تھیں، اور وہ کتاب 'گل بوٹے' میں شائع شدہ فاروق بھائی کے اپنے ہی منتخب اور مایہ ناز اداریوں کا مجموعہ تھی۔ جب تمام کتابوں کے سرورق کی باری آئی، تو بات اسی کتاب کے کور پر آ کر اٹک گئی۔ میں نے ایک طراح اور مصنف کی حیثیت سے پورے اصرار کے ساتھ فاروق بھائی سے کہا، "فاروق بھائی! یہ کتاب آپ کے قلم کا نچوڑ ہے، کم از کم اس کے سرورق پر آپ کی ایک خوبصورت تصویر ضرور آنی چاہیے۔"
انہیں راضی کرنے کی کوشش میں تین دن گزر گئے، میں روز نیا زاویہ لاتا اور وہ ہر بار مسکرا کر ٹال دیتے۔ جب میرا اصرار حد سے بڑھ گیا، تو انہوں نے محبت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک ایسا جملہ کہا جس نے مجھے لاجواب کر دیا:
"ریحان صاحب! اگر میری کتاب پر میری تصویر جائے گی، تو پھر باقی چوبیس کتابوں کے سرورق پر بھی ان کے مصنفین اور مرتبین کی تصاویر ہونی چاہئیں... میں اکیلا کیوں نمایاں ہوں؟"
وہ اپنے اصول پر اڑے رہے اور آخر تک اپنی ہی کتاب کے کور پر اپنی تصویر لگانے سے صاف انکار کرتے رہے۔ نام و نمود کے اس دور میں، جہاں لوگ اپنی چھوٹی سی تحریر پر بھی اپنی بڑی سی تصویر کے خواہشمند ہوتے ہیں، وہاں ادب کا یہ قداور ستون اپنی تصویر کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کو برابر کا درجہ دے رہا تھا۔
میٹنگ ختم ہوئی، پچیس کتابوں کے خاکہ جات تیار ہو گئے اور میں پونے سے کامٹی واپس لوٹ آیا۔ لیکن فاروق بھائی کی وہ سادگی اور تصویر نہ لگانے کی وہ درویشانہ ضد میرے وجود کا حصہ بن گئی۔ میں نے اس چوتھی ملاقات سے یہ عظیم نتیجہ اخذ کیا کہ کچھ لوگ دنیا میں اپنی تصویروں اور ناموں کے سہارے زندہ رہنا چاہتے ہیں، جبکہ فاروق سید جیسی مخلص شخصیات اپنے کام، اپنے ظرف اور اپنے اخلاق کی بدولت دلوں پر حکومت کرتی ہیں۔ وہ کتاب جس کے سرورق پر فاروق بھائی کی تصویر چھپ نہ سکی، جب منظرِ عام پر آئی تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس کے کور پر تصویر کا نہ ہونا ہی اس کتاب کا سب سے خوبصورت اور معتبر سرورق بن گیا تھا۔ فاروق بھائی نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر اپنی تصویر چھپوانے سے تو منع کر دیا، لیکن اپنی اس بے نفسی اور انکساری سے انہوں نے میری روح کے کینوس پر اپنی عظمت کی ایک ایسی لازوال اور خوبصورت تصویر نقش کر دی، جسے وقت کا کوئی بھی طوفان کبھی دھندلا نہیں سکے گا۔
٭
فاروق سید صاحب کے ساتھ طویل رفاقت میں یوں تو کئی ملاقاتیں ہوئیں اور ہر ملاقات اپنے اندر مہر و وفا کا ایک جہاں چھپائے ہوئے تھی، لیکن دلی کے تاریخی پس منظر میں ہونے والی وہ پانچویں ملاقات میرے دل کے نہاں خانے میں ایک خاص سبق کی طرح محفوظ ہے۔
موقع تھا 'گل بوٹے' رسالے کی سلور جوبلی کا۔ دلی کے دلنشیں موسم میں پانچ روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا، جو اپنی شان و شوکت اور علمی وقار کے لحاظ سے ایک یادگار تقریب تھی۔ سیمینار کے شب و روز علم و ادب کے معتبر ترین اداروں کے طواف میں گزر رہے تھے۔ دوسرے دن جامعہ ملیہ اسلامیہ کی علمی فضا تھی، تو اگلے دن جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) اور دلی یونیورسٹی کے در و دیوار اردو کی گونج سے مہک رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی اردو اکیڈمی، غالب اکیڈمی اور غالب انسٹی ٹیوٹ جیسے مایہ ناز ادبی مراکز کی محفلوں میں بھی ہمیں شرکت کا موقع مل رہا تھا۔
دلی یونیورسٹی کے ایک پروقار ہال میں سیمینار کی کارروائی عروج پر تھی۔ ملک و بیرونِ ملک سے آئے مہمانوں کو اسٹیج پر بلا کر گل پوشی کی جا رہی تھی، شالیں اڑھائی جا رہی تھیں اور تالیوں کی گونج فضا میں بکھر رہی تھی۔ اسی دوران، ہال کے ایک گوشے میں، میرے اور میرے عزیز دوست وجاہت عبدالستار کے درمیان ایک دھیمی گفتگو شروع ہوئی۔ ایک انسانی جبلت کہیے یا نوآموزی کا گلہ، ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ اس اتنے بڑے میلے میں ہمیں اسٹیج سے دور، کہیں حاشیے پر ڈال دیا گیا ہے۔ نام و نمود کی یہ ہلکی سی ٹھیس ہمیں خان نوید الحق صاحب کے پاس لے گئی۔ جب ہم نے شکایت کا یہ پوشیدہ دفتر ان کے سامنے کھولا، تو انہوں نے بھی ہماری بات کی تائید کی اور ہم تینوں نے مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر سیدھے فاروق سید صاحب سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہم بھری محفل سے نکل کر فاروق بھائی کے پاس پہنچے اور اپنی محرومی کا گلہ کچھ اس انداز میں کیا کہ گویا ہمارے ساتھ بڑی ناانصافی ہو رہی ہو۔ فاروق بھائی نے روایتی سنجیدگی اور تحمل سے ہماری بات سنی، ان کے چہرے پر کوئی ملال یا غصہ نہیں ابھرا، بلکہ ایک دانا مسکراہٹ ان کے لبوں پر تیر گئی۔ انہوں نے محبت سے ہماری طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں پوچھا:
”آج اس سیمینار کے تین دن گزر چکے ہیں... کیا آپ میں سے کسی نے مجھے ایک بار بھی اسٹیج پر جا کر کسی مہمان کو گل پیش کرتے ہوئے یا وہاں نمایاں کھڑے ہوئے دیکھا ہے؟“
ان کا یہ سوال ایک ایسا تازیانہ تھا جس نے ہمیں چونکا دیا۔ ہم نے ماضی کے تین دنوں کی فلم اپنے ذہن میں دہرائی، تو سچ مچ... فاروق بھائی، جو اس پورے بین الاقوامی جشن کے روحِ رواں اور میزبانِ اعلیٰ تھے، وہ خود کبھی اسٹیج کی چکا چوند میں نظر نہیں آئے۔
ہماری خاموشی کو دیکھ کر انہوں نے میرا اور وجاہت عبدالستار کا ہاتھ تھاما اور بڑے مان سے کہنے لگے:
”یہ جو اتنا بڑا کارواں چل رہا ہے، اس میں ہر مسافر کا ایک الگ کام ہے۔ میں نے جس کو جو ذمہ داری دی ہے، وہ اس کی قابلیت دیکھ کر دی ہے۔ اسٹیج پر جلوہ افروز ہونا اور شالیں اوڑھنا ایک الگ بات ہے، لیکن پردے کے پیچھے رہ کر، اسٹیج کے نیچے اس پورے نظام کو سنبھالنا اور انتظام کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھنا بہت بڑی بات ہے۔ مجھے اس پردہ نشیں ذمہ داری کے لیے آپ لوگوں سے بہتر اور مخلص کوئی نظر نہیں آیا، اس لیے میں نے یہ کام آپ کو سونپا۔“
ان کے ان چند لفظوں نے ہمارے دلوں پر پڑا ہوا نام و نمود کا وہ مٹیالا پردہ چاک کر دیا۔ ہمیں سمجھ آ گیا کہ فاروق بھائی خود ستائی اور سستی شہرت کے اسیر نہیں تھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہمیں کوئی غیر نہیں، بلکہ اپنا ہی عکس سمجھتے تھے۔ انہوں نے ہمیں اسٹیج سے دور رکھ کر دراصل ہمیں اپنے سب سے قریبی دائرے میں شامل کر لیا تھا جہاں صرف بے لوث کام اور بھروسہ ہوتا ہے۔
دلی کا وہ سیمینار ختم ہو گیا، مہمان رخصت ہو گئے اور تالیوں کی گونج بھی ہال کے در و دیوار میں دم توڑ گئی، لیکن فاروق بھائی کا وہ جملہ میرے دل کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔ میں نے اس دن سیکھا کہ اصل تخلیق کار اور مخلص رہنما وہ نہیں ہوتا جو اسٹیج کی روشنیوں میں نہا کر تالیاں سمیٹتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو پردے کے پیچھے اندھیرے میں کھڑا ہو کر بھی پورے منظر نامے کو روشن رکھتا ہے۔ فاروق بھائی نے ہمیں اسٹیج پر جگہ نہیں دی تھی، بلکہ اپنی بے پناہ محبت اور اعتماد کی اس بلندی پر بٹھا دیا تھا جہاں پہنچ کر نام و نمود کی ہر تمنا حقیر نظر آنے لگتی ہے۔ وہ ملاقات مجھے زندگی کا یہ سب سے بڑا سبق دے گئی کہ روشنی پھیلانے کے لیے خود چراغ کی لو میں جلنا پڑتا ہے، اسٹیج پر کھڑے ہو کر سورج بننے کا دعویٰ نہیں کرنا پڑتا۔
٭
پچھلی تمام ملاقاتیں اپنی جگہ علمی اور ادبی وقار سے لبریز تھیں، لیکن چھٹی ملاقات کا رنگ سب سے نرالا، بے تکلف اور یادگار تھا۔ یہ ملاقات کسی سنجیدہ کانفرنس ہال یا کتابوں کے سرورق کی بحث میں نہیں، بلکہ پونے کے ایک چوک اور چٹخارے دار گفتگو کے درمیاں سجی۔
شام ڈھل چکی تھی اور بال بھارتی ہاسٹل کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ہم چند دوستوں نے فیصلہ کیا کہ آج پاس ہی کے ایک مشہور ویجیٹیرین ریستوراں کا رخ کیا جائے۔ میں پچھلے دو دنوں سے مسلسل اسی ریستوراں سے کھانا کھا کھا کر اوب چکا تھا اور میری زبان کا ذائقہ پھیکا پڑ چکا تھا، لیکن دوستوں کی رفاقت میں ایک الگ ہی کشش تھی۔ چنانچہ، ہم سب باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑے اور چوک سے بائیں جانب مڑنے والے راستے پر واقع اسی جانے پہچانے ریستوراں میں جا پہنچے۔
ریستوراں کی میز پر نشستیں سنبھالی گئیں تو ایک دلچسپ منظر تھا؛ میرے عین سامنے علم و ادب کے معتبر نام، خان حسنین عاقب صاحب براجمان تھے، اور میری بائیں جانب فاروق بھائی ہاتھوں میں مینیو کارڈ لیے، مختلف ڈشز پر گہری نظر ڈالتے ہوئے کسی خاص ذائقے کی تلاش میں تھے۔
میں نے موقع غنیمت جانا اور اپنی دو دن کی بیزاری کو زبان دیتے ہوئے خان حسنین عاقب صاحب سے پوچھا:
"عاقب سر! کیا اس ہوٹل کی ساری ڈشز کا ذائقہ ایک جیسا نہیں ہوتا؟ یا پھر شاید میری اپنی زبان کا ذائقہ ہی خراب ہو گیا ہے کہ مجھے یہاں کی ہر سبزی اور ہر سالن کا سواد ایک ہی جیسا معلوم ہوتا ہے؟"
میری بات سن کر خان حسنین عاقب صاحب مسکرا دیے اور تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگے:
"ریحان صاحب! آپ کی زبان بالکل ٹھیک ہے۔ یہ بات میں نے بھی بڑی گہرائی سے نوٹس کی ہے۔ یہاں کی تمام ویج ڈشز کا ذائقہ واقعی ایک جیسا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ باورچی خانے میں پہلے سے ایک ہی 'کامن گریوی' (مصلح کا بنیادی شوربہ) تیار کر کے رکھ لیتے ہیں۔ پھر گاہک جو بھی آرڈر دے—خواہ وہ مکس ویج ہو، پنیر ہو یا کوئی اور سبزی—وہ اسی بنی بنائی گریوی میں اس سبزی کو ڈال کر میز پر سجا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شکل بدلتی ہے، مگر ذائقہ وہی رہتا ہے۔"
ہم دونوں ابھی اس گریوی کی یکسانیت پر مسکرا ہی رہے تھے کہ میرے بازو میں بیٹھے فاروق بھائی نے مینیو کارڈ سے نظریں ہٹائیں، ان کی آنکھوں میں ایک رندانہ چمک ابھری اور انہوں نے کمالِ بے تکلفی سے گفتگو کا رخ ایک بالکل نئے اور اچھوتے فلسفے کی طرف موڑ دیا۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا: "میاں ریحان! آپ لوگوں کو تو صرف یہاں کے کھانے اور ڈشز ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں... مجھے تو آج کی اس نئی نسل کا حلیہ دیکھ کر سب ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں! ذرا غور سے دیکھو، آج کل کے ہیرو اور ہیروئنیں جو پردے پر نظر آتے ہیں، میرے لیے تو ان میں تفریق کرنا اور انہیں پہچاننا ایک معمہ بن گیا ہے؛ سب کے چہرے، سب کے انداز ایک جیسے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے برصغیر کے کرکٹرز کو دیکھ لو... چند ایک کو چھوڑ کر سب نے ایک ہی جیسی داڑھی بڑھا رکھی ہے، ایک ہی جیسا ہیئر اسٹائل ہے، سب کے سب ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ میں تو اکثر پریشان ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے کہ آج کی ہماری پوری نسل اپنی انفرادیت کھو کر سب کی سب ایک جیسی دکھائی دینے لگی ہے؟"
فاروق بھائی کی اس برجستہ اور گہری بات پر ہماری میز قہقہوں سے گونج اٹھی، لیکن ان کے اس ظریفانہ تبصرے نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔
ریستوراں کا وہ کھانا ختم ہو گیا اور ہم رات کے اندھیرے میں واپس ہاسٹل کی طرف چل پڑے، لیکن فاروق بھائی کی وہ بات میرے ذہن کے کینوس پر ایک گہرا فلسفہ بن کر پھیل گئی۔
میں نے سوچا کہ ریستوراں کے باورچی کی طرح، آج کے اس جدید اور ڈیجیٹل دور نے بھی پسِ
پردہ ایک ہی جیسی 'ثقافتی گریوی' تیار کر دی ہے۔ فیشن، سوشل میڈیا اور سستی نقالی کے اس کارخانے نے
نئی نسل سے ان کی اپنی انفرادیت، ان کا اپنا اچھوتا پن اور ان کا ذاتی رنگ چھین لیا ہے۔ ہر شخص بھیڑ کا حصہ بننے کی دھن میں دوسرے جیسا دکھنے کی دوڑ میں شامل ہے۔
فاروق بھائی نے ہنستے ہنستے ہمیں زندگی کا کتنا بڑا سچ سکھا دیا تھا کہ انسان کی اصل خوبصورتی اور اس کی پہچان اس کے 'سب جیسا ہونے' میں نہیں، بلکہ 'سب سے الگ ہونے' میں ہے۔ چاندنی رات میں ہاسٹل کی طرف بڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ نام و نمود اور نقالی کے اس دور میں، فاروق سید صاحب خود ایک ایسی منفرد اور اچھوتی شخصیت کے مالک ہیں جن کا اپنا ایک الگ ذائقہ، الگ طرز اور الگ خوشبو ہے—ایک ایسا انسان جو بھیڑ میں رہ کر بھی کبھی بھیڑ کا حصہ نہیں بنا، بلکہ اپنی انفرادیت کی شمع جلائے سب سے جدا اور سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔
٭
ساتویں اور آخری ملاقات کے دوران موبائل فون کا کیمرہ ہماری طرف تھا، اور وہ فون آصف اقبال سر کے ہاتھوں میں۔ میرے اور فاروق بھائی کے ہاتھوں میں چائے کے ڈسپوزل گلاس تھے، جن سے اٹھتی بھاپ شام کی ٹھنڈی ہوا میں کسی خاموش دعا کی طرح تحلیل ہو رہی تھی۔
بال بھارتی شیواجی ہال کے قریب وہ سیڑھیاں اُس وقت محض سیڑھیاں نہیں لگ رہی تھیں، جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے وہاں اپنی رفتار روک دی ہو۔
آصف سر تصویر لینے ہی والے تھے کہ میں نے بےساختہ کہا،
“فاروق بھائی! یہاں تصویر اچھی نہیں آئے گی… بیک گراؤنڈ بدل لیتے ہیں۔”
میرے اتنا کہتے ہی فاروق بھائی ہنس پڑے۔ وہی مانوس، نرم اور دل میں اتر جانے والی ہنسی… جس میں اپنائیت بھی تھی اور شرارت بھی۔
انہوں نے میرا ہاتھ کھینچا، مجھے دوبارہ وہیں سیڑھیوں پر بٹھا دیا اور آصف اقبال سر سے کہا،
“ارے آصف! یہی ٹھیک ہے… تصویر جگہ سے نہیں، لوگوں سے خوبصورت بنتی ہے!”
پھر میری طرف دیکھ کر بولے،
“کبھی کبھی انسان کو بیک گراؤنڈ بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی… بس لمحہ سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔”
اس وقت یہ ایک معمولی سی بات لگی تھی۔
ہم نے چائے کے گھونٹ لیے، تصویر کھنچ گئی، اور شام اپنی رفتار سے آگے بڑھ گئی۔
کسی کو کیا خبر تھی کہ وہ لمحہ وقت کے سمندر میں ایک آخری جزیرہ بن کر رہ جائے گا۔
آج فاروق سید صاحب ہم سب کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے…
مگر اب جب اُس تصویر کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ بیک گراؤنڈ واقعی غلط نہیں تھا۔
غلطی تو شاید ہماری تھی…
ہم سمجھ رہے تھے کہ تصویر ایک لمحہ محفوظ کر رہی ہے،
حالانکہ وہ لمحہ ہم میں سے ایک انسان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر رہا تھا۔
٭٭٭

0 Comments