Ticker

6/recent/ticker-posts

غزل از۔صادق الزماں کامٹوی

 غزل
خار کو اے مرے محبوب گلِ تر کر دے
دل مرا بوئے محبت سے معطر کر دے
نام میرا بھی رہے چاہنے والوں میں ترے
لوحِ گیتی پہ مجھے حرفِ مکرر کردے
فاصلے سانپ کی مانند ڈسے جاتے ہیں
تاب دے ضبط کی یا دل مرا پتھر کردے
میں کہ اک قطرہِ ناچیز ہوں، تو چاہے تو
مجھ کو وسعت میں بدل کر ہی سمندر کر دے
رہِ الفت میں جو آئی ہے کڑی دھوپ کی لہر
سایہِ زلف کو اب میرے لیے گھر کر دے
خاکِ پائے شہِ والا سے جِلا دے کر تو
میری تقدیر کے ذروں کو منور کر دے
تیری چوکھٹ پہ جھکا ہے جو زماں کا ماتھا
کاسہِ چشم کو تو لعل و جواہر کر دے

از۔صادق الزماں کامٹوی

Post a Comment

0 Comments