ناگپور / کامٹی:
کامٹی میونسپل کونسل کے پربھاگ 8-A کے انتخابی تنازع نے اب ایک نیا اور حساس قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔ ضلع و سیشن عدالت ناگپور میں زیرِ سماعت انتخابی عرضی "حفظ الانصاری کلیم اختر عرف چھوٹو بھائی بنام احفاظ احمد اے شکور و دیگر" کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے حقِ معلومات (RTI) کے ذریعے حاصل کردہ دستاویزات، محکمانہ خط و کتابت اور اپیل سے متعلق ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ہیں، جس سے معاملے میں نئی قانونی سرگرمی پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق عدالت میں داخل کردہ دستاویزات میں مہاراشٹر اسٹیٹ پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (MAHAGENCO) سے متعلق خط و کتابت اور RTI درخواستیں شامل ہیں، جن میں احفاظ احمد اور "ہینا انجینئرنگ ورکس" سے متعلق ٹینڈرز، کنٹریکٹ اور ورک آرڈرز کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ MAHAGENCO نے مذکورہ RTI درخواست کو RTI ایکٹ کی دفعہ 6(3) کے تحت کھاپرکھیڑا تھرمل پاور اسٹیشن سمیت متعلقہ دفاتر کو ارسال کیا ہے، جس سے ریکارڈ کی جانچ کا دائرہ مزید وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ ان دستاویزات کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا "احفاظ احمد کنٹریکٹر" اور "ہینا انجینئرنگ ورکس" کے نام سے سرکاری منصوبوں میں کوئی کام یا ٹینڈر وابستہ ہیں یا نہیں، اور ان دونوں کے درمیان کسی قسم کا کاروباری تعلق ہے یا نہیں۔
UDYAM رجسٹریشن اور کاروباری ساخت کی تفصیلات طلب
اسی تسلسل میں ڈسٹرکٹ انڈسٹریز سینٹر، ناگپور سے "ہینا انجینئرنگ ورکس" (UDYAM-MH-20-0046157) کے رجسٹریشن، ملکیت، سرگرمیوں اور متعلقہ ریکارڈ کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں تاکہ ادارے کی کاروباری ساخت اور طریقہ کار پر مکمل وضاحت حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ کامٹی میونسپل کونسل کے علاقے میں ممکنہ تجاوزات سے متعلق معلومات نہ ملنے پر RTI ایکٹ کی دفعہ 19(1) کے تحت دائر کردہ پہلی اپیل کو بھی عدالت کے علم میں لایا گیا ہے۔
حلف نامے میں معلومات کا انکشاف قانونی ضرورت
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے وقت امیدواروں کی جانب سے داخل کردہ انتخابی حلف نامے میں اپنی جائیداد، کاروبار، مالی مفادات اور دیگر اہم معلومات ووٹرز کے سامنے رکھنا قانونی طور پر لازمی ہے۔ ایک سینئر قانونی ماہر کے مطابق:
"اگر کسی امیدوار کی مالی یا کاروباری سرگرمیوں سے متعلق حقائق سامنے آتے ہیں، تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ کیا ایسی معلومات انتخابی حلف نامے میں مکمل طور پر ظاہر کی گئی تھیں یا نہیں۔ عدالت ایسے معاملات میں ریکارڈ کی بنیاد پر صورتحال واضح کرتی ہے۔"
عدالتی کارروائی کی صورتحال
سماعت کے دوران درخواست گزار حفظ الانصاری عرف ’چھوٹو بھائی‘ کی جانب سے اضافی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے دستاویزات کو شاملِ ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی۔ دوسری جانب، مدعا علیہ نمبر 1 احفاظ احمد اے شکور اور مدعا علیہ نمبر 2 ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے تحریری جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگا گیا، جسے عدالت نے قبول کر لیا۔ مدعا علیہ نمبر 3 ضلع کلکٹر اور ضلع الیکشن آفیسر کے حوالے سے سابقہ یکطرفہ کارروائی کا ذکر بھی ریکارڈ میں آیا ہے۔ عدالت نے اب معاملے کی اگلی سماعت 23 مارچ 2026 مقرر کی ہے۔
تاخیر پر قانونی بحث
سماعت کے دوران جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگے جانے پر قانونی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ انتخابی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انتخابی عرضیوں کا فیصلہ جلد از جلد (ترجیحاً 90 دنوں کے اندر) ہونا چاہیے تاکہ جمہوریت کی شفافیت برقرار رہے۔
سیاسی و قانونی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ان دستاویزات نے درخواست گزار کا موقف مضبوط کر دیا ہے، جس کے بعد یہ انتخابی عرضی اب ایک انتہائی سنجیدہ موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ 23 مارچ کو فریقِ مخالف کی جانب سے کیا جواب داخل کیا جاتا ہے۔

0 Comments