Ticker

6/recent/ticker-posts

"صاحب توند"( انشائیہ) ✒️ مختار احمد

 
"صاحب توند"

انشائیہ

✒️ مختار احمد

دنیا میں کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم اپنی محنت سے کمائی جاتی ہیں اور کچھ چیزیں اپنی سست روی سے یونہی حاصل ہو جاتی ہیں۔ محنت سے کمائی گئی چیزیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں لیکن سست روی سے کمائی گئی چیزیں گننے میں مجھے سستی آتی ہے۔۔۔ حالانکہ وہ نایاب نہیں ہوتیں انہیں چند "غیر نایاب" چیزوں میں سے ایک چیز ہے توند۔۔۔۔

توند کسے کہتے ہیں۔۔۔

میرے نزدیک ایک شخص اگر عمودی حالت میں کھڑا ہے یا افقی حالت میں لیٹا ہے تو  ان صورتوں میں اسکے پیٹ اور ناک کے مخروطی حصے کے متوازی ایک خط مستقیم کھینچا جائے اور اگر پیٹ، ناک کی حدود سے اندر رہے تو موٹاپا یا دبلا پن، لیکن اگر پیٹ ناک کی حدود سے تجاوز کر جائے تو یہ کیفیت توند کی علامت ہے اور جس صاحب کی یہ کیفیت ہو جاوے انہیں صاحب توند کہ سکتے ہیں۔۔آٹھویں یا  دسویں جماعت  کے امتحان میں ایک مضمون لکھنا پڑتا تھا  "سائنس رحمت ہے یا زحمت"  اگر اسی طرح کا  مضمون توند پر لکھا جائے تو عنوان ہوگا "توند زحمت ہے یا عظیم زحمت"۔۔ کیونکہ رحمت جیسی کو ئی بات توند میں نظر نہیں آتی ۔۔۔کوئی مریل شخص ہی توند کو رحمت کہ سکتا ہے جسکی ناک اسکے ہونٹوں کے بھی پیچھے ہوں۔۔۔

ہر دور میں کچھ دبلے پتلے لوگ ، کچھ تندرست و توانا ، تو کچھ صاحب توند اشخاص رہے ہونگے ۔  میں نے اسے ماضی ، حال اور مستقبل کے پیش نظر پیش کیا ہے کیونکہ ۹۵ فیصدی صاحب توند حضرات ماضی اور حال میں بھلے ہی دبلے پتلے، تندرست و توانا ہوں لیکن ۹۵ فیصدی امکان رہتا ہے کہ مستقبل میں وہ صاحب توند ہوجائیں۔

یہ ساری فلسفیانہ باتیں میرے موٹے دماغ کی اپج ہے۔ خیر کبھی کبھی میں اوب جاتا ہوں کہ یہ کبھی نہ ختم  ہونیوالی دولت کب ختم ہوگی بھی یا نہیں۔۔۔   پھر بے یارومددگار میں اپنے آپ کو تسلی دینے کیلئے اس کے فائدے تلاش کرنے لگتا ہوں پر کچھ ایک فائدوں کے علاوہ زیادہ فائدوں پر نظر نہیں جا پاتی ۔۔ صاحب توند ہونے کے کئی فائدوں میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ کی، آپ کے گھر کی  خوشحالی کا اندازہ بآسانی ہوجاتا ہے،  یہی بات تندرست و توانا شخص کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے لیکن دبلے پتلے لوگوں کے بارے میں یہ بات دعوت کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی اسکا مطلب کم سے کم اس معاملہ میں میں دبلے پتلے لوگوں سے بہتر ہوں۔ اگلا سب سے بڑا فائدہ یہ ہیکہ اگر سامنے والے شخص کو کچھ  کام ہو تو وہ میری "توند یافتہ" شخصیت سے متاثر ہوکر مجھ سے مخاطب ہونے کی جرت نہیں کر پاتا، یہی حال دبلے پتلے شخص کے ساتھ بھی پیش آتے ہیں کہ ان کی کمزوری کے سبب ان سے بھی پوچھ تاچھ نہیں ہوتی لیکن تندرست و توانا شخص چاہ کر بھی کم از کم کام کرنے کے اصرار سے بچ نہیں سکتا مطلب اس معاملے میں میں تندرست و توانا  شخص سے بہتر ہوں۔

 ۔ مندرجہ بالا دونوں صورتوں کے پیش نظر  میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔۔ میں یقینا خوش ہو سکتا ہوں کہ میں دبلے پتلے اور تندرست و توانا شخص سے کسی نہ کسی صورت بہتر ہوں۔۔۔۔اگلا فائدہ  یہ کہ موٹر سائیکل چلاتے وقت مجھے افضلیت دی جاتی ہے کہ موٹر سائیکل میں چلائوں کیونکہ اگر خدانخواستہ میں بیچ میں یا پیچھے بیٹھ جائوں تو کم سے کم ایک شخص کی جگہ کم ہوجائیگی

۔۔۔۔صاحب توند ہونے کا اگلا فائدہ یہ بھی ہیکہ آپ ہمیشہ آگے، دائیں، بائیں دیکھ سکتے ہیں نیچے نہیں کیونکہ نیچے صرف آپ کو توند نظر آتی ہے۔۔ غرض کہ توند آپ کو متحرک کرتی ہیکہ آپ سامنے دیکھیں، دائیں بائیں دیکھیں مقابلہ کریں کہ یہ بہادری کی علامت ہے نیچے نہ دیکھیں کہ یہ بزدلی کی نشانی ہے۔تو کیا یہ توند بزدلی کی نشانی ہے۔۔ جی نہیں اکثر اوقات اس توند کی وجہ سے ہی اچھے سے اچھے خاں کی ہمت نہیں پڑتی کہ ہم سے منہ زوری کر سکے۔۔

یوں تو ہر چیز خدا کی دین ہے لیکن توند کو ہم  سیدھے طور پر سستی اور کاہلی کی دین کہ سکتے ہیں۔۔۔ شکم شکنی کی حد تک کھانے کی کوشش کرنے والے اشخاص کی دین ہے، چٹر پٹر کھلانے والے اور کھانے والوں کی دین ہے غرض کہ یقینا توند یافتہ ہونا آپ کی" ڈائٹنگ سے فائٹنگ" کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

کہتے ہیں پچھلی کئی صدی پہلے ایک گائوں میں ایک بڑے دانشور پنڈت جی رہتے تھے جو صاحب توند تھے اور ان کی توند اتنی بڑی تھی وہ اسی پر برتن رکھکر چائے پیتے ، برتن رکھکر کھانا بھی کھاتے۔۔۔راقم الحروف  کو پکا یقین ہیکہ کسی بڑھئی نے دیکھا ہوگا اور کھانے کا میز بنانے کا خیال بھی وہیں سے آیا ہوگا ۔ اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہیکہ ایسی کئی چیزوں کی ایجاد میں توند یافتہ شخصیت ہی باعث تحریک رہے ہوں گے۔میں نے بہت کم توند یافتہ شخصیات دیکھیں ہیں جو شراب کے نشہ کے عادی ہوں ، ارے بھائی ان کو کھانے سے فرصت ملے تو شراب پینے کا خیال کریں۔ خیر جو بھی ہو اس سے  ایک بات تو ثابت ہوتی ہیکہ توند والے حضرات شراب نوشی سے دور اور کباب نوشی کے بہت قریب رہتے ہیں۔۔صرف سستی اور کاہلی ہی توند کا باعث نہیں بلکہ وافر مقدار میں ، عام آدمی سے تین چار گنا خوراک ، گھی تیل کی چیزوں کا خوب سے خوب استعمال بھی توند آنے کا سبب ہے ۔ صاحب توند حضرات "مستجاب الدعوات" بھی ہوتے ہیں۔۔ وہ جب  کسی حلوائی کے یہاں کچھ کھاتے ہیں تو انہیں فورا دعا دیتے ہیں کہ "خوب کھائو خوب کھلائو موٹے ہو جائو "اسلئے آپ نے کسی حلوائی کو کبھی دبلا  پتلا نہیں دیکھا ہوگا اگر دیکھا بھی ہوگآ تو مجھے بتانا۔ اگر آپ نے  سچ مچ ۴بتادیا تو   لیجئےمیرے ڈیڑھ درجن سموسے میں سے آدھا درجن آپ کے۔۔۔

Post a Comment

0 Comments