Ticker

6/recent/ticker-posts

آئی پی ایل۔۔۔ سماج کے ماتھے پرایک بدنما داغ ✍️رخسانہ نازنین بیدر، کرناٹک

آئی پی ایل۔۔۔۔ سماج کے ماتھے پرایک بدنما داغ

رخسانہ نازنین

بیدر، کرناٹک

ہندوستانی معاشرے میں سنیما اور کرکٹ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ دونوں ہمارے معاشرے میں ایسے رچے بسے ہیں کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ان سے دامن نہیں چھڑا سکتے۔ بدلتے وقت کے ساتھ سنیما کا معیار بھی بدلا۔ اور آج کے سنیما کا کیا معیار ہے یہ سبھی جانتے ہیں! یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ معاشرے کے بگاڑ کی بنیادی وجہ آج کی فلمیں اور ٹی وی سیریلس ہیں۔
کرکٹ نے بھی معاشرے میں بے حیائی اور بے شرمی کو فروغ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ جب سے ہندوستان میں آئی پی ایل( انڈین پرئمیر لیگ) کی شروعات ہوئی ہے اس کھیل نے اپنا چولہ ہی بدل لیا۔ نیا رنگ، نیا روپ لئے یہ کھیل ایسا تماشا بن گیا ہے جسے گھر کے سارے افراد کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں شرم محسوس ہونے لگتی ہے۔ کامنٹریٹر کھیل کے آغاز سے قبل، وقفے کے دوران اور اختتام پر آپس میں بیٹھ کر جو تبصرے کرتے ہیں ان میں کچھ ماڈرن خواتین بھی شامل ہوتی ہیں اور ان کا رکھ رکھاؤ، لباس اور میک اپ انتہائی ناشائستہ ہوتا ہے۔ اب تو ایک مخصوص دھن پر یہ سارے کے سارے تھرکتے بھی ہیں! جمپک جپاک، جمپک جپاک کہتی ہوئی ہر ٹیم کی اپنی مخصوص حسیناؤں کی ٹولیاں، بے ہنگم قہقہے اور اوچھی کامیڈی۔۔۔۔ گویا ایک اسٹیج پر ہر قسم کا تماشا موجود ہے جو ناظرین کا دل لبھائے۔ کرکٹ کے میدان میں اب کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ حسیناؤں کا بول بالا ہے۔ مختصر لباس میں موسیقی کی دھن پر تھرکتی، ہر چوے، چھکے پر رقص کرتی، داد دیتی، کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ پتہ نہیں انہیں دیکھکر کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یا پھر وہ ان کے ہوش ربا حسن کی چکاچوند میں کھوکر آؤٹ ہوجاتے ہیں یا پھر کیچ چھوڑ دیتے ہیں۔! بہرحال ان کی کسی بھی کوتاہی کا سہرا میں تو ان حسیناؤں کے سر ہی باندھنا چاہوں گی۔!
کرکٹ ایک صاف ستھرا کھیل تھا جسے ایک مذاق بنادیا گیا ہے۔ کاروباری طبقے نے اس کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ خریدے ہوئے، فروخت ہوئے کھلاڑی اب صرف اپنے مالکان کے لئے کھیلتے ہیں۔ جیسے ریس کے گھوڑے ہوں جو اپنے مالک کے اشارے پر دوڑنے لگتے ہیں۔! کرکٹ ملک کے لئے کھیلا جائے تو ملک کی شان اور وقار اس سے وابستہ ہوتی ہے لیکن اب کھلاڑی صرف دولت کے لئے کھیلتے ہیں۔ کڑوڑوں روپئے میں کھلاڑیوں کی نیلامی ہوتی ہے اور ان کھلاڑیوں پر کڑوڑوں روپئے کے داؤ لگائے جاتے ہیں! سٹہ بازی کے رسیا آپس میں برسر پیکار ہیں۔ جوے کا شوق تیزی سے پروان چڑھ کر بزنس میں بدل گیا ہے۔ کرکٹ اب دولت مند طبقے کے عیش کا سامان بن گیا ہے۔ کھلاڑی بھی مختلف اسکینڈلس میں ملوث پائے جارہے ہیں۔ مشہور ومعروف کمپنیوں کے مالکین اور فلم انڈسٹری کی نامور ہستیوں کی موجودگی میں نت نئے شرمناک واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو ملک کی بدنامی کا باعث ہیں اور سماج کو ایک بھدا پیغام دیتے ہیں۔
آئی پی ایل کے آغاز سے اختتام تک ہزاروں افسانے بنتے اور بگڑتے ہیں۔ ہر تاریک رات سحر ہونے تک ایک نئی کہانی کو جنم دیتی ہے۔ جس کے کردار کرکٹ فلم یا کارپوریٹ سیکٹرکا کوئی نہ کوئی فرد ہوتا ہے۔ ہندوستانی تہذیب اور روایات کے مغائر یہ کھیل سوائے بے حیائی اور بے شرمی کے فروغ کے علاوہ کوئی عوامی خدمت انجام نہیں دے رہا ہے۔

Post a Comment

0 Comments